The news is by your side.

Advertisement

اوباما نے ایک بارپھر اسرائیلیوں کو مظلوم قراردے دیا

واشنگٹن : امریکی صدر براک اوباما نے ایک مرتبہ پھر اسرائیلیوں کو مظلوم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے تشدد پسندانہ رویے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔

ایران نیوکلیئر ڈیل کے دنوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے صدر براک اوباما اور اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان شدید اختلافات ہیں۔

نیتن یاہو آج بھی ایران ڈیل کے مخالف ہیں اور گزشتہ دورہ امریکا میں جب انہوں نے امریکی کانگریس سے ایران ڈیل کے خلاف خطاب کیا تو صدر اوباما نے نہ صرف انہیں وائٹ ہاؤس مدعو کرنے سے معذرت کی بلکہ اعتراض کیا کہ اسرائیلی وزیر اعظم امریکی خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن آج وائٹ ہاؤس کے اول آفس میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات کچھ اور ہی داستان سناتی رہی۔

صدر اوباما نے نہ صرف فلسطینیوں کو تشدد پسند کہا بلکہ ایک بار پھر اسرائیل کی حفاظت کو امریکا کی اہم ذمہ داری قرار دیا، صدر اوباما نے داعش اور حزب اللہ کیخلاف حکمت عملی سمیت اسرائیل کے ساتھ دفاعی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیاجبکہ نیتن یاہو اک بار پھر ایران پر تنقید اور فلسطین کے ساتھ امن قائم کرنے کا راگ الاپتے رہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اعظم کے دورہ امریکا میں امریکا اسرائیل کی فوجی امداد تین ارب ڈالرز سے بڑھا کر پانچ ارب ڈالرز تک کر سکتا ہے۔

واضح رہے کہ یروشلم کے مغربی کنارے میں حالیہ پر تشدد واقعات میں کئی فلسطینی اور اسرائیلی شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں