The news is by your side.

Advertisement

لکھنؤ میں کشمیریوں پر تشدد، بھارتی صحافی نے انتہا پسندوں کو غدار قرار دے دیا

نئی دہلی: بھارتی خاتون صحافی برکھا دت نے مسلمانوں اور کشمیریوں پر ظالم کرنے والے انتہاء پسندوں کو غدار قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایک روز قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں دیکھا جاسکتا تھا کہ ہندو انتہاء پسند تنظیم کے کارندوں نے لکھنؤ میں مسلمانوں پر تشدد کیا۔

فٹ پاتھ پر بیٹھے خشک میوہ جات فروخت کرنے والے مسلمانوں نے انتہاء پسند رہنماؤں کو یقین دلایا کہ وہ صرف کاروبار کی غرض سے یہاں بیٹھے ہیں مگر انہوں نے ایک نہ سنی اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔

بھارت سے تعلق رکھنے والی معروف خاتون صحافی برکھا دت نے ویڈیو دیکھ کر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بھارت میں مسلمانوں پر مسلسل ظلم ہورہا ہے، کشمیری یا مسلمان کو دیکھتے ہی انتہاء پسند اُسے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیتے ہیں‘۔

ویڈیو دیکھیں: بھارت، ہندو انتہا پسندوں کا غریب کشمیری نوجوانوں پر تشدد

انہوں نے بھارتی انتہاپسندوں کو غدار قرار دیا اور لکھنو میں دو کشمیری مسلمانوں پر تشدد کی مذمت کی۔ برکھا دت کا کہنا تھا کہ  اگر ایسی حرکت قوم پرستی لگتی ہے تو آپ غدار ہیں، جب آپ تشدد کو ہوا دیں گے تو کسی سے اچھے جواب کی امید نہ رکھیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے افسوسناک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بھارتی حکومت کا مکرہ چہرہ بے نقاب کیا تھا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ لکھنؤ میں میوہ فروخت کرنے والے دو کشمیریوں پر ہندوانتہا پسندوں نے حملے کیا اور انہیں بری طرح تشدد کا نشانہ بنایا، اس دوران سڑک پر موجود افراد خاموش تماشائی بنے رہے جبکہ ایک نوجوان نے واقعے کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر کی۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی صحافی اور عالمی میڈیا نے بھارتی سرجیکل اسٹرائیک کے دعوے کو مضحکہ خیز قرار دے دیا

انتہاپسندوں نے محنت کش کشمیریوں پر لاٹھیاں برسائیں اور بری طرح گھسیٹا اور سرعام تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ کشمیری ہیں اس لیے ان کے ساتھ ایسا برتاؤ ہورہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں