The news is by your side.

Advertisement

آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، بیرسٹرعلی ظفر

صرف آرمی ایکٹ میں معمولی ترمیم کرنا ہوگی

کراچی: بیرسٹرعلی ظفر کا کہنا ہے کہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، صرف آرمی ایکٹ میں معمولی ترمیم کرنا ہوگی، پارلیمنٹ سادہ اکثریت سے یہ ترمیم کرسکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے آروائی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بحران ختم ہوگیا ہے اب فیصلہ پارلیمنٹ نے کرنا ہے، سپریم کورٹ نے جن امور کی نشاندہی کی، اس کو ٹھیک کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ آئینی ترمیم کی ضرورت نہیں ہے، صرف آرمی ایکٹ میں معمولی ترمیم کرنا ہوگی، پارلیمنٹ سادہ اکثریت سے یہ ترمیم کرسکتی ہے۔

علی ظفر نے کہا کہ 6 ماہ میں یہ قانون سازی ہوسکتی ہے، نیا آرڈیننس لایا جاسکتا ہے یا عدالت سے رجوع کرسکتے ہیں، قانون ایک بار بننے کے بعد سب پر اس کا نفاذ ہوگا، قومی مفاد کا معاملہ ہے امید ہے اپوزیشن تعاون کرے گی۔

سپریم کورٹ نے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں 6ماہ کی توسیع کردی

یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6 ماہ کی توسیع کی مشروط اجازت دی تھی۔

عدالت عظمیٰ نے قانون سازی کے لیے معاملہ پارلیمنٹ بھیجنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا تھا آرمی چیف جنرل قمر باجوہ اپنے عہدے پر برقرار رہیں گے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں