اتوار, جولائی 19, 2026
اشتہار

27ویں آئینی ترمیم کو ہم نہیں مانتے، بیرسٹر گوہر

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد (11 نومبر 2025): چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کو ہم نہیں مانتے، آئین مقدس ذمہ داری ہے لیکن آج اس ذمہ داری سے بے ایمانی کی گئی۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے جو آئینی ترمیم آئے گی اس سے عدلیہ مضبوط ہوگی لیکن افسوس کے ساتھ آج جمہوریت کیلیے سوگ کا دن ہے، آج یہ لوگ جمہوریت کو دفن کرنے کیلیے ایک قدم آگے بڑھ رہے ہیں۔

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قانون کے سامنے جواب دہ ہونا ہی جمہوریت ہے، دنیا میں کس صدر کے پاس ایسا استثنیٰ ہے؟ آئینی ترمیم جب آتی ہے تو عوام خوش ہوتے ہیں کہ ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا مگر آج بدقسمت دن ہے۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتی اتحاد کی قومی اسمبلی میں واضح اکثریت

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ یہ آج اپنی طاقت کے بل پر بلڈوز کرنے جا رہے ہیں، پی ڈی ایم ٹو حکومت آتے ہی انہوں نے اپنے کیسز معاف کروائے، آج یہ جاتے جاتے خود کو ایسا اختیار دے رہے ہیں جس سے ان کو سزا سے استثنیٰ ہو۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ دنیا میں کس صدر کے پاس ایسا استثنیٰ ہے، ایسا کہاں ہوتا ہے کہ اگر صدر ریٹائرڈ ہو جائے تو سمن نہیں جائے گا، ایسا نہیں ہو سکتا کہ میں جو مرضی کروں میں قانون سے بالاتر ہوں، کیا پارلیمنٹ اس طرح مضبوط ہوتی ہے؟

’ایٹمی ملک کا سربراہ باکو میں بیٹھ کر آئینی ترمیم کی منظوری دے رہا ہے، 27ویں آئینی ترمیم کو ہم باکو ترمیم کہتے ہیں۔ ہم عوام کے پاس کس منہ سے جائیں گے؟ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم اپنے لیے قانون بنائیں اور استثنیٰ لے لیں، صرف صدر کیلیے استثنیٰ کیوں مانگا جا رہا ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کا ٹائٹل آپ نے ختم کر دیا ہے، آرٹیکل 176 میں ترمیم کیوں کی؟ اب صرف چیف جسٹس آف سپریم کورٹ رہ گیا ہے، آئینی عدالت کے چیف جسٹس کا تقرر وزیر اعظم کرے گا یہ غلط پراسس ہے۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں