اسلام آباد : چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے نئی سولر پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا حکومت نے پہلے سولرکا سبزباغ دکھایا، اب اس پر چارج کرے گی۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر نے پارلیمنٹ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے نئی سولر پالیسی کی بھرپور مذمت کی اور کہا کہ یہ عوام کے ساتھ ظلم اور زیادتی ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت کی پالیسیاں دیکھیں، انہوں نےپہلے سولر کا سبز باغ دکھایا لوگوں نے سرمایہ کاری کی۔۔ اب حکومت اس پر چارج کرے گی، یہ نامناسب ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے مزید کہا کہ اس پالیسی سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو نقصان پہنچ رہا ہے اور واضح کیا کہ نیٹ میٹرنگ یونٹس کے مطابق ہونا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے پہلے کہا کہ 20 یونٹ عوام سے لیے جائیں اور پھر 20 یونٹ واپس کیے جائیں، لیکن اب یہ 20 یونٹ 100 روپے میں لینے کی بات کر رہی ہے، جس سے صارفین کے لیے نقصان دہ صورتحال پیدا ہو گئی ہے، یہ کس قسم کی سولر پالیسی بنائی گئی ہے، یہ بہت غلط ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے سیاسی صورتحال پر بھی بات کی اور کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا تھا کہ مینڈیٹ چوری ہوا ہے، اس لیے سیاسی راستہ نکالنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ بانی کی جانب سے اچکزئی اور ناصر عباس کو مذاکرات یا احتجاج کا اختیار دیا گیا ہے، اور لائحہ عمل بھی انہی نے ترتیب دیا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے مشورہ دیا کہ ہر فورم کی طرف چلنا چاہیے تاکہ سیاسی حل نکل سکے۔
انہوں نے یقین دلایا کہ ملک کو بحرانوں سے نکالا جائے گا، مزاحمت بھی ایک سیاسی طریقہ کار ہے، ہم کوئی دشمن نہیں ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو مرضی کے علاج کی سہولت نہیں دی جا رہی، اور اس کے باوجود ملک اتنا مضبوط ہے کہ ایک ٹوئٹ سے نہیں گر سکتا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


