لاہور (25 فروری 2026): ہوم ڈیپارٹمنٹ نے ایک رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرائی ہے جس میں بسنت تہوار پر جاں بحق ہونے والے شہریوں کی وہ تعداد بتائی ہے جو پہلے کی بتائی گئی تعداد سے بہت زیادہ ہے، تاہم ان اموات میں بھی ڈور پھرنے سے ہونے والی اموات شامل نہیں ہیں۔
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے جوڈیشل ایکٹوزم پینل کی درخواست پر اس حوالے سے ایک کیس کی سماعت کی، ہوم ڈیپارٹمنٹ نے رپورٹ داخل کرائی جس میں بتایا گیا کہ بسنت پر مجموعی طور پر 17 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
سابق ڈی جی ایف آئی اے نے ایس ایس پی بیٹے سے بیوی کی بازیابی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکٹھا دیا
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بسنت پر ہلاکتیں کرنٹ لگنے اور چھتوں اور درختوں سے گرنے سے ہوئی ہیں، رپورٹ کے مطابق 12 افراد چھت سے اور 2 افراد درخت سے گرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے، جب کہ 3 افراد کرنٹ لگنے سے جان کی بازی ہارے۔
درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے عدالت سے کہا کہ بسنت پر جو لوگ ڈور پھرنے سے جاں بحق ہوئے ہیں، اُن کی تعداد نہیں بتائی جا رہی، اس کے علاوہ زخمی ہونے والوں کے حوالے سے بھی رپورٹ پیش نہیں کی گئی ہے۔
عدالت نے بسنت پر ہونے والے سرکاری اخراجات کی تفصیل کے لیے درخواست پر بھی نوٹس جاری کر دیے۔
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں


