داعش کے خلاف کاروائی کرنے پر امریکا کا خیر مقدم کریں گے' بشار الاسد -
The news is by your side.

Advertisement

داعش کے خلاف کاروائی کرنے پر امریکا کا خیر مقدم کریں گے’ بشار الاسد

دمشق: شام کے صدر بشار الاسد داعش کے خلاف کاروائی کرنے پر امریکی فوجیوں کو خیر مقدم کریں گے، ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے ایک بین الاقومی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

تفصیلات کے مطابق شام کے صدر نے بین الاقومی نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کو شام کی خود مختاری کا احترام کرنا چاہیئے، انہوں نے امریکی صدر کے اس خیال کو یکسرمسترد کرتےہوئے کہا کہ ٹرمپ کا یہ خیال سراسر غلط ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ شام امریکا سے نکالے گئے پناہ گزینوں کے لئے’محفوظ زون ‘ بن گیا ہے۔

شام کے صدر نے اہم اطلاعات پر تبصرے کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کے صدر ٹرمپ اسلامی ریاستوں کو پسپا کرنے کے لئے اپنی فوج اور ہیلی کاپٹر
بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔

بشار الاسد نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو یہ اقدام غلط ہے انہوں نے کہا کہ امریکا کہ صدر کو انتشار ختم کرنے میں معاون کردار ادا کرنا چاہیئے اور شام اور دیگر اسلامی ریاستوں کے ساتھ خطے میں بحالی امن کے لئے موثر امور سرانجام دینے چاہیئے۔

انہوں نے روس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے اتحادی نے ہماری خود مختاری پر حرف لائے بغِیر ہمارے ملک سے داعش کا صفایا کرنے میں ہماری مدد کی۔

isis

 

بشارالاسد نے بین الا قومی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کی بھی ملک کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کو شکست دینے میں کو مما نعت نہیں ہے، انہوں نے کہا شام میں قائم پناہ گاہ شامی متاثرین کے لئے ہے جس میں کوئی دہشت گرد نہیں ہے بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو شام کے معرضی حالات کی سگینی کا شکار ہوئے ہیں ۔

انٹرویو کے دوران انہوں نے روس کو امریکا سے مفاہمت کرنے کا مشورہ بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکا اور روس مل کر داعش کے خلاف کاروائیاں کریں تو یہ اقدام شام کے لئے مفید ثابت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پہلے میں روس کو مشورہ دینے کی پوزیشن میں تھا ، تاہم اب خطے کے حالات کو دیکھتے ہوئے یہ بات کہہ رہا ہوں ،اگرچہ میرے علم میں ہے کہ امریکا اور روس کا ایک دوسرے سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

انہوں نے سیاسی شخصیات کی جانب سے تیرہ ہزار افراد کے پھانسی دینے کے دعوی کو بھی مسترد کیا۔

واضح رہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے حوالے سے یہ چونکا دینے والی خبر آئی تھی کہ شام کے صدر نے تیرہ ہزار قیدیوں کو پھانسی پر لٹکا دیا،
شام کے صدر نے اس خبر کو متصبانہ اقدام قرار دیا انہوں نے کہا کہ یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے جبکہ ہمارے ہاتھ بندھے ہیں۔

دوسری جانب ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ترجمان نے شام کے صدر بشا رالاسد کے بیان کو حقائق سے منافی قرار دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں