The news is by your side.

Advertisement

’کرونا وائرس چمگادڑ کی وجہ سے پھیلتا ہے‘: انکشاف

بیجنگ: ایکو ہیلتھ الائنس کے صدر ڈاکٹر پیٹرڈسزاک نے انکشاف کیا ہے کہ چمگادڑ کی وجہ سے سالانہ ہزاروں لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں  اور دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیلنے کی وجہ بھی یہی ممالیہ ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرپیٹر کا کہنا تھا کہ یہ وائرس جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوا، اور اس بات کو وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ انسانوں میں وائرس پھیلنے کی بڑی وجہ چمگادڑ ہی ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کا سبب بننے والی چمگادڑ کا مدافعتی اتنا مضبوط ہوتا ہے کہ یہ ایسے وائرس کے ساتھ زندہ رہتی ہے جو بے شمار مہلک بیماریوں کی وجہ بنتے ہیں۔ ڈاکٹر کے مطابق ابھی اس بات پر تحقیق جاری ہے کہ آیا اگر کرونا سے متعلق ثابت ہوگیا تو اس کا مطلب ہوگا کہ ’سارس‘ اور ’مرس‘ جیسے وائرسز کی وجہ بھی چمگادڑ ہی ہے۔

مزید پڑھیں: چین میں کرونا وائرس سے مزید ہلاکتیں، تعداد 170 ہو گئی

غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس ایپی ڈیمک یعنی ایک انسان سے دوسرے انسان میں پھیلنے والی بیماری ہے، چمگادڑ کے علاوہ خنزیر بھی اس بیماری کی بڑی وجہ ہوسکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق چمگادڑ کے جسم میں کئی وائرس پائے جاتے ہیں مگر ان سے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا، ان وائرسز کی وجہ سے ہی افریقا، ملائشیا، بنگلہ دیش اور آسٹریلیا میں بے شمار مہلک امراض پھوٹ چکے ہیں جنہوں نے سیکڑوں افراد کو متاثر کیا۔

ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تباہی مچانے والے ایبولا وائرس کی وجہ بھی یہی ممالیہ تھا، چمگادڑ میں خاص قسم کا ریبیز وائرس پایا جاتا ہے جس نے طبی ماہرین کو بڑی پریشانی میں مبتلا کررکھا ہے۔

ڈاکٹر ڈسزاک کے مطابق موذی بیماریوں اور ان وائرس سے بچنے کے لیے ایسے جانوروں کی فروخت پر روک تھام کرنی ہوگی جن سے بیماریاں پھیلتی ہیں، ماہرین نے ممالیہ کو دہشت گردوں جتنا ’خطرناک‘ قرار د یا اور بتایا کہ دنیا بھر میں ہر سال ہزاروں افراد چمگادڑ کی وجہ سے ہی موت کے منہ میں جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ماہرین نے کرونا وائرس تخلیق کرلیا؟ تہلکہ خیز دعویٰ

اسے ضرور پڑھیں: کروناوائرس کیوں ہوتا ہے ؟ بچاؤ کیسے ممکن

یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کی وجہ ، روک تھام اور اس کے علاج کے لیے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے جو ابھی تک کسی بھی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی۔ ڈبلیو ایچ او نے ابھی تک کرونا وائرس کو پراسرار بیماری قرار دیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں