اتوار, مارچ 15, 2026
اشتہار

ہزاروں سال پرانے جانور کی ہڈی نے محققین کو بھی حیران کردیا، اہم انکشافات

اشتہار

حیرت انگیز

اسپین کے علاقے کوردوبا میں جنگی ہاتھی کے ممکنہ آثار دریافت ہوئے ہیں، ہاتھی کی ہڈی برآمد ہونے کے بعد ہنی بال کے جنگی لشکر کا پہلا ٹھوس ثبوت سامنے آگیا۔

زمانہ قدیم کی جنگوں میں ہاتھیوں کا استعمال ایک خوفناک منظر کی طرح بیان کیا جاتا ہے، مگر اب تک ان کا وجود زیادہ تر تصویروں اور تحریروں تک محدود تھا۔

لیکن اب جنوبی اسپین کے شہر کوردوبا میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے تحت ہونے والی کھدائی نے پہلی بار ایسا مادی ثبوت فراہم کیا ہے جو ان کہانیوں کو حقیقت کے قریب لے آیا ہے۔

bone

غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ماضی کی کارتھیجینی افواج کے نشانات کے ساتھ
ایک فوسل شدہ جنگی ہاتھی کی ہڈی جس کی لمبائی تقریباً 10 سینٹی میٹر ہے اور کانسی کی لگام ملی ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ ہاتھی کی اگلی ٹانگ کے نچلے حصے کی ہڈی ہے، اس سلسلے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ دوسری پیونک جنگ (218 تا 201 قبل مسیح) میں استعمال ہونے والے کارتھیجینی جنگی ہاتھیوں کا پہلا واضح جسمانی ثبوت ہوسکتا ہے۔

یونیورسٹی آف کارڈوبا کے ماہر آثار قدیمہ اور تحقیق کے مرکزی مصنف نے لائیو سائنس سے گفتگو میں کہا کہ یہ ہڈی ایک انقلابی دریافت ثابت ہوسکتی ہے۔

Elephants bone

تقابلی اور مطالعاتی جائزے سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مذکورہ ہڈی ایسے ہاتھی کی ہوسکتی ہے جس کی نسل اور زمانہ اُن جانوروں سے مطابقت رکھتا ہے جو ہنیبل بارکا نے دوسری پیونک جنگ میں استعمال کیے تھے، جب اس کا مقابلہ رومی سپہ سالار سے تھا۔

اس کے علاوہ رومی مؤرخ لیوے نے اپنی تاریخی تصنیف میں دریائے ٹریبیہ کی لڑائی کا ذکر کرتے ہوئے ایک لرزہ خیز منظر بیان کیا تھا کہ اس جنگ میں فوجیوں کی بڑی تعداد دریا میں بہہ گئی اور کچھ دوسری جانب کنارے تک جاپہنچے اور ہاتھیوں کے پاؤں تلے کچلے گئے۔

Hannibal's War Elephants

لیوی مزید لکھتے ہیں کہ یہ دیو قامت جانور لشکر کے کناروں پر کھڑے ہو کر نہ صرف اپنی شکل بلکہ اپنی مخصوص بو سے بھی فوجیوں کے گھوڑوں کو بدحواس کردیتے اور میدان میں خوف و ہراس پھیلا دیتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق یہ ہڈی جنوبی اسپین کے ایک گاؤں میں کھدائی کے دوران مٹی کی اس تہہ سے برآمد ہوئی جس کی کاربن ڈیٹنگ کے مطابق عمر تقریباً 2 ہزار 250 سال ہے۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں