The news is by your side.

Advertisement

لائیو انٹرویو میں‌ مداخلت کرنے والے بچے منظر عام پر

لندن: برطانوی خبر رساں ادارے کو انٹرویو دینے والے تجزیہ کار کیلی اپنے بچوں اور بیوی کو منظر عام پر لے آئے اور تجزیے کے دوران بچوں کے کمرے میں داخلے پر ہونے والی تنقید کے جوابات بھی دے دیے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ ہفتے برطانوی نشریاتی ادارے “بی بی سی” کو جنوبی کوریا کی صورتحال پر اپنے کمرے سے  ویڈیو انٹرویو دینے والے رابرٹ کیلی کے انٹرویو میں میں دلچسپ پہلو اُس وقت دیکھنے میں آیا جب بچے لائیو انٹرویو کے دوران کمرے میں گھس آئے اور سیاسی نوعیت کی بات چیت گھریلو منظر میں تبدیل ہوئی۔

انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ براہ راست تجزیہ دیتے وقت کیلی بہت سنجیدہ تھے تاہم ایک دم دروازے سے اُن کی چھوٹی بیٹی لہراتی ہوئی منہ میں بوتل پھنسائے کمرے میں داخل ہوئی اگلے ہی لمحے ایک بیٹا بھی داخل ہوا۔

بیٹی نے کیلی کے قریب جانے کی کوشش کی تو انہوں نے بچی کو ہلکا سا دھکا دے کر پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر اُن کی بیوی کو جب کمرے میں بچوں کی موجودگی کا علم ہو ا تو وہ تیزی سے کمرے میں داخل ہوئیں اور دونوں بچوں کو کھینچ کر باہر لے گئیں، اس دوران انہوں نے کیمرے سے بچنے کی کوشش کی مگر وہ نہ بچ سکیں۔

تجزیہ نگار اور اہلیہ کے بچوں کے ساتھ اس رویہ پر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور لوگوں نے کیلی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بچوں کے ساتھ پیش آنے والے رویے کی مذمت بھی کی جبکہ کچھ نے اہلیہ کو ایشیائی خاتون بھی قرار دیا۔

ایک ہفتہ خاموشی کے بعد کیلی ایک بار پھر بی بی سی پر انٹرویو دیتے دکھائی دیے مگر اس بار عجیب بات یہ تھی کہ کمرے میں داخل ہونے والے دونوں بچے اور خاتون (اہلیہ) بھی اُن کے ہمراہ موجود تھیں۔

پہلا انٹرویو

ایک سوال کے جواب میں کیلی نے اس بات کا اظہار کیا کہ ’’اس حرکت کے بعد مجھے خدشہ تھا کہ بی بی سی کی جانب سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا جائے گا اور ہمارا تعلق منقطع ہوجائے گیا مگر شکر ہے ایسا نہیں ہوا‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’انٹرنیٹ پر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہم نے یہ ویڈیو کلپ کئی مرتبہ دیکھا اور اس سے محظوظ بھی ہوئے تاہم عوامی ردعمل سے تھوڑا دکھ بھی ہوا۔

کیلی نے مزید کہا کہ کمرے میں داخل ہونے والی خاتون میری اہلیہ ہیں اور  جس پر جونگ اے کِم نے بھی فوراً تصدیق کرتے ہوئے بچوں کے ساتھ اپنے رویے پر معافی بھی مانگی‘‘۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں