site
stats
اہم ترین

نواز جندال ملاقات بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ: بی بی سی کا دعویٰ

غیر ملکی نشریاتی ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال اور وزیر اعظم نواز شریف کی ملاقات بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ تھی۔ نشریاتی ادارے کے مطابق ملاقات پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کی بھارتی کوشش کا حصہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق بی بی سی میں شائع کردہ ایک رپورٹ کے مطابق سجن جندال اور نواز شریف کی ملاقات بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ تھی۔

ملاقات کے بعد دفتر خارجہ نے اس غیر رسمی ملاقات کو نجی قرار دیا تھا۔ بعد ازاں وزیر اعظم کی صاحبزادی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ دو دوستوں کی ملاقات ہے، اسے غلط رنگ نہ دیا جائے۔

تاہم بی بی سی کا دعویٰ ہے کہ پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کے لیے بیک چینل ڈپلومیسی کے تحت کی جانے والی اس ملاقات کے بارے فوجی قیادت کو بھی اعتماد میں لے لیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم نواز شریف سے بھارتی اسٹیل ٹائیکون کی ملاقات

رپورٹ کے مطابق، ’بعض اہم سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم میاں نواز شریف نے اپنی ایک حالیہ ملاقات میں سجن جندال کے دورہ پاکستان کے بارے میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو اعتماد میں لیا ہے‘۔

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا، ’ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے فوجی قیادت کو بتایا ہے کہ سجن جندال اہم بھارتی حکام کی ایما پر ان سے ملے تھے اور یہ ملاقات پاکستان اور بھارت کی کشیدگی کم کرنے کی بھارتی کوشش کا حصہ ہے‘۔

بی بی سی کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت نے بھی سجن جندال کی وزیر اعظم سے ملاقات کے بارے میں اپنے افسران کو اعتماد میں لیا ہے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے ساتھیوں کو بتایا ہے کہ سجن جندال کی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات بیک چینل ڈپلومیسی کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ فوجی قیادت نے واضح کیا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کو کسی بھی قیمت پر کسی لین دین کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

یاد رہے کہ 27 اپریل کو بھارتی اسٹیل ٹائیکون سجن جندال سمیت بھارت کا 3 رکنی وفد خصوصی طیارے کے ذریعے کابل سے اسلام آباد پہنچا تھا۔

مزید پڑھیں: سجن جندال کو 10 روزہ ویزا جاری کرنے کا انکشاف

بھارتی وفد میں سجن جندال، سوکیت سنگال، وریندر ببر سنگھ شامل تھے۔ 3 رکنی وفد کو وزیر اعظم ہاؤس اور دفتر خارجہ کی ہدایت پر 10 روزہ بزنس ویزا جاری کیا گیا جو لاہور اور اسلام آباد کے لیے تھا۔

تاہم سجن جندال اور ان کے ساتھی ویزا نہ ہونے کے باوجود مری کی سیر کو بھی گئے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top