بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کرلیا -
The news is by your side.

Advertisement

بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کرلیا

بے خیالی میں یوں ہی بس اک ارادہ کر لیا
اپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیا

جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا

غیر سے نفرت جو پا لی خرچ خود پر ہو گئی
جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا

شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاس
آبِ سادہ کو حریف رنگِ بادہ کر لیا

ہجرتوں کا خوف تھا یا پرکشش کہنہ مقام
کیا تھا جس کو ہم نے خود دیوارِ جادہ کر لیا

ایک ایسا شخص بنتا جا رہا ہوں میں منیرؔ
جس نے خود پر بند حسن و جام و بادہ کر لیا

***********

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں