مہنگائی نے جہاں ہر شعبے کو متاثر کیا، وہیں بیوٹی سیلونز بھی اس کی زد میں آ گئے ہیں۔ خواتین کے لیے خوب صورت نظر آنا خواہش ہی نہیں ضرورت بھی ہے، مگر مجموعی مہنگائی، بیوٹی پراڈکٹس کے بڑھتے دام اور ٹیکس، کلائنٹ سمیت سیلون مالکان کو بھی شدید مشکلات میں دھکیل رہے ہیں۔
بیوٹی پراڈکٹس مہنگے ہو چکے ہیں، ٹیکس میں بے پناہ اضافہ ہو چکا ہے، اور ایسے میں سیلون چلانا مشکل ہو گیا ہے، مگر خواتین پھر بھی سیلون پہنچ رہی ہیں کیوں کہ خوب صورتی صرف شوق نہیں، خود اعتمادی کا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔
ہر گزرتے برس کی طرح 2025 بھی مہنگائی کا ایک نیا سال ہے، جہاں ایک طرف اشیائے خورد و نوش نے عوام کی کمر توڑی ہے، وہیں بیوٹی سیلون مالکان سمیت وہاں جانے والی خواتین بھی پریشان نظر آتی ہیں، لیکن مہنگائی ہو، چاہے خرچہ زیادہ ہو جائے، مگر دل کش نظر آنے کی خاطر خواتین کو سیلون کا رخ کرنا ہی ہے۔
سیلون مالکان کا بھی کہنا ہے کہ اخراجات بڑھ رہے ہیں مگر گاہکوں کی آمد کم نہیں ہوئی، جس سے معلوم ہو جاتا ہے کہ خواتین کے لیے پرکشش نظر آنا کیا معنی رکھتا ہے۔
Sehrish Khokhar is ARY News Sukkur Correspondent


