اتوار, جولائی 19, 2026
اشتہار

بیگم بھوپال کا تذکرہ جنھیں بہترین منتظم اور علم و ادب کی شیدا کہا جاتا ہے

اشتہار

حیرت انگیز

ہندوستان کی مشہور ریاست بھوپال کو شاہ جہاں بیگم کی شکل میں ایک بہترین منتظم ہی نہیں بلکہ علم و فنون کی دلدادہ حکم راں بھی نصیب ہوئی جو خود بھی شاعرہ اور مصنّف تھیں۔

شاہ جہاں بیگم نے 1838ء میں آنکھ کھولی۔ وہ دسویں‌ حکم راں اور تیسری بیگم بھوپال تھیں جن کا انتقال 1901ء میں آج ہی کے دن ہوا۔ آج بیگم بھوپال کی برسی ہے۔ ان کا دور وہ تھا جب انگریز ہندوستان پر قابض ہوتے جارہے تھے، اور ایسٹ انڈیا کمپنی نے والیانِ ریاست سے ان کی حقیقی آزادی اور خود مختاری چھین کر انھیں نواب اور امیر بننے پر مجبور کردیا تھا۔ اسی زمانہ میں بھوپال کو بھی نوابی ریاست کا درجہ دے دیا گیا۔ بیگم بھوپال نے قلعہ اسلام نگر میں آنکھ کھولی تھی۔ شاہی خاندان کی چشم و چراغ ہونے کے ناتے بہترین تعلیم و تربیت پائی اور مختلف فنون بھی سیکھے۔ 1844ء میں ان کے والد نواب جہانگیر محمد خان کا انتقال ہوا تو کم عمر شاہ جہاں بیگم کو ان کی جگہ ملی مگر ریاست کا انتظام و انصرام ایک عرصہ تک ان کی والدہ نواب سکندر بیگم چلاتی رہیں۔ بعد میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھوپال کو نوابی ریاست کا درجہ دے کر اصل اختیار اور وسائل اپنے ہاتھ میں‌ لے لیے۔ اسی زمانے میں بیگم صاحبہ کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور تب شاہ جہاں بیگم کی تخت نشینی عمل میں لائی گئی۔

بھوپال کی سرزمین پر جنم لینے والی کئی شخصیات نے علم و ادب کے ساتھ فنون کے مختلف شعبہ جات میں کمال دکھایا اور نام پیدا کیا۔ شاہ جہاں بیگم بھی علم و فنون کے فروغ کے لیے مشہور ہوئیں۔ اس کے علاوہ ریاست میں‌ اصلاحات اور تعمیر و ترقّی کے لیے قابلِ ذکر اور مثالی اقدامات کیے۔ شاہ جہاں بیگم غیر معمولی ذہانت کی حامل اور بیدار مغز خاتون تھیں۔ گھڑ سواری اور نشانہ بازی سیکھنے کے علاوہ انھوں‌ نے امورِ ریاست میں‌ بھی گہری دل چسپی لی اور بھوپال میں اپنے اختیارات کے مطابق انتظامی امور کو نہایت خوبی سے چلایا بھی۔

انھوں نے تخت نشینی کے بعد کئی جدید اصلاحات کیں، جن کا ذکر انھوں نے ’تاجُ الااقبال‘ کے نام سے اپنی کتاب تاریخِ بھوپال میں کیا ہے۔ ان میں وضعِ قوانین کے لیے محکمہ قائم کرنا، عدالتی اختیارات کی تقسیم، امن و امانِ عامّہ سے متعلق وسیع انتظامات اور حفظانِ صحّت سے متعلق امور پر توجہ دیتے ہوئے ہر تحصیل میں طبیب مقرر کیا۔ شہر بھوپال میں ایک بڑا شفا خانہ بنوایا۔ بیگم بھوپال کے امورِ سلطنت اور کاموں کا تذکرہ کئی صفحات پر پھیل سکتا ہے۔ وہ اپنی رعایا کی بڑی خیر خواہ اور کشادہ ذہن کی مالک تھیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس دور میں چیچک کی بیماری پھیلی تو انھوں نے کسی ہچکچاہٹ کے بغیر عوام کو اس کے ٹیکے لگوانے کی ہدایت کی اور اس معاملے میں شفا خانوں سے ہر قسم کا تعاون کیا۔ آج کے دور میں جس طرح کرونا کی ویکسینیشن سے لوگ گھبرا رہے تھے، اسی طرح چیچک سے متعلق ناقص معلومات اور بہت سی غلط باتیں‌ بھوپال کے لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں جنھیں شاہ جہاں بیگم نے مسترد کیا اور حفاظتی ٹیکے لگانے کی حوصلہ افزائی کی۔ اس حوالے سے انھوں نے نہ صرف ٹیکے لگانے کے انتظامات ریاست بھر میں کروائے بلکہ عوام کا ٹیکے سے متعلق خوف اور خدشات دور کرنے کے لیے اپنی نواسی بلقیس جہاں بیگم کو چیچک کا ٹیکہ لگوایا۔ شاہ جہاں بیگم تعلیم اور صحت کو بہت اہمیت دیتی تھیں۔ ان کے دور میں کئی یتیم خانے تعمیر ہوئے اور معذوروں کے لیے باقاعدہ وظائف کا سلسلہ جاری کیا تھا۔

دینی اور علمی کاموں میں انھوں‌ نے خوب فراخ دلی دکھائی اور ایک محکمہ بنام مطبع شاہجہانی قائم کروایا جس میں قرآن مجید کی طباعت کی جاتی تھی۔ اسی طرح‌ امورِ مذہبی کا ایک جدید محکمہ قائم کیا گیا۔ کئی لاکھ روپے خرچ کر کے شہر کی اکثر مساجد کو پختہ کروایا۔ شاہ جہاں بیگم نے فن تعمیر کو بھی عروج دیا۔ تاجُ المساجد جو بھوپال کی عظیم ترین جامع مسجد ہے، کی بنیاد اُنہی کے حکم پر رکھی گئی تھی۔ شاہ جہاں بیگم کی تصانیف میں تہذیبِ نسواں، خزینۃُ اللغات شامل ہیں۔ وہ فارسی زبان میں شاعری کرتی تھیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں