The news is by your side.

‘لبرل’ بیگم پارہ سے ملیے!

فلمی اداکارہ بیگم پارہ نے 1951 ء میں‌ لائف میگزین کے لیے ‘بولڈ’ فوٹو شوٹ کروایا تھا۔ اپنی ‘بیہودہ’ تصاویر پر سماج میں انھیں اپنی مخالفت اور لعن طعن برداشت کرنا پڑا۔ یہ نیم برہنہ فوٹو شوٹ تھا۔ بیگم پارہ کی اس بے باکی کا ہندی سنیما میں بھی خوب چرچا ہوا اور پھر وہ پردۂ سیمیں سے دور ہو گئیں۔

بیگم پارہ 1926ء میں جہلم میں پیدا ہوئی تھیں، جو آج پاکستان کا حصّہ ہے۔ ان کا خاندان علی گڑھ سے تعلق رکھتا تھا، لیکن بیگم پارہ کا بچپن اور عمر کا ایک بڑا حصّہ ریاست بیکانیر میں گزرا جہاں ان کے والد بغرضِ ملازمت قیام پذیر تھے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے والی بیگم پارہ بعد میں‌ فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوئیں اور چالیس اور پچاس کی دہائی میں نام کمایا۔ اس زمانے میں بیگم پارہ کو ‘گلیمر گرل’ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔

انھوں نے اپنے بچپن اور ابتدائی عمر میں نظم و ضبط اور ایک ایسا ماحول دیکھا جس میں اصولوں اور اقدار کو بھی اہمیت دی جاتی تھی، لیکن بیگم پارہ نے اپنی زندگی کو اپنے ہی ڈھب سے گزارا اور آزاد خیال نہیں بلکہ اس دور میں خود کو ‘لبرل’ ثابت کیا۔

بیگم پارہ کے بارے میں یہاں ہم ایک تحریر نقل کررہے ہیں، جو کتاب ‘ہندی سنیما میں مسلم اداکارائیں’ سے لی گئی ہے، جس کے مصنّف غیاث الرحمٰن ہیں۔

"ہندی فلموں کی اداکاراؤں میں اہم اور دل چسپ نام ہے جن کا اصل نام زبیدہ الحق تھا۔ بیگم پارہ فلمی دنیا میں آنے کے لیے سماج سے ٹکرائیں اور آخر عمر تک اسی دنیا میں رہیں۔”

"انہوں نے نرم و گرم سارے دور دیکھے اور گردشِ ایّام کے انہیں مراحل کو طے کرتی ہوئیں وہ 2008 کے دسمبر کی ایک سرد تاریخ کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔”

"بیگم پارہ اپنے انتقال سے 82 سال قبل جہلم (پنجاب، پاکستان) میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد احسان الحق کا شمار اپنے زمانے کے معزز و محترم اشخاص میں ہوتا تھا۔ وہ پیشے کے لحاظ سے جج تھے۔”

"بیگم پارہ نے جب فلمی دنیا میں جانے کا فیصلہ کیا تو کافی شور شرابا ہوا۔ چونکہ اس زمانے میں فلمی اداکاراؤں کا پیشہ شرفا کے لیے شایانِ شان تصور نہیں کیا جاتا تھا۔ اس لیے جب ایک معروف جج کی بیٹی کے فلمی دنیا میں داخلے کی خبر آئی تو لوگوں نے اس کو کافی بڑا اسکینڈل بنا دیا۔ خود بیگم پارہ کے والد بھی فکرمند ہوئے مگر چونکہ گھر والوں کو احساس تھا کہ بیگم کو اس کے ارادوں سے باز رکھنا ممکن نہیں اس لیے انہوں نے ہلکے پھلکے احتجاج پر اکتفا کیا اور اس کے راستے میں بھی حائل نہ ہوئے۔”

"بیگم پارہ کی پہلی فلم 1944 میں آئی۔ پربھات پروڈکشن کی اس فلم کا نام "چاند” تھا۔ چاند کے بعد تو بیگم پارہ کی فلموں کی ایک لمبی فہرست ملتی ہے جن میں سے اکثر کامیاب ہوئیں۔ چھمیا، شالیمار (1946)، دنیا ایک سرائے، لٹیرا، مہندی، نیل کمل اور زنجیر (1947) ، جھرنا، شہناز اور سہاگ رات (1948)، دادا (1949)، مہربانی (1950)، لیلی مجنوں اور نیا گھر (1953)، آدمی (1957) اور دوستانہ (1956) ان کی اہم فلمیں رہیں۔”

"بیگم پارہ کی شادی ناصر خان سے ہوئی جو خود ایک فلمی اداکار اور شہرۂ آفاق سپر اسٹار دلیپ کمار کے چھوٹے بھائی تھے۔ ناصر خان کچھ دنوں تک ساتھ نبھانے کے بعد موت کے بہانے بیگم پارہ کو داغِ مفارقت دے گئے اور اس طرح بیگم ایک مرتبہ پھر اکیلی پڑ گئیں۔ شوہر کے انتقال کے بعد وہ کچھ دنوں کے لیے پاکستان بھی گئی تھیں۔”

"فلموں سے بیگم پارہ کا جذباتی رشتہ ہمیشہ قائم رہا۔ اپنی بیماری اور پیرانہ سالی کے باوجود انہوں نے 2007 میں فلم "سانوریا” (رنبیر کپور اور سونم کپور کی اولین فلم) میں کام کرنے کے لیے ہامی بھر لی۔ چونکہ وہ بہت لاغر ہو چکی تھیں لہذا بدقت تمام وہیل چیئر پر بیٹھ کر سیٹ پر آتیں اور دن بھر شوٹنگ میں مشغول رہتیں۔”

"اخیر عمر میں وہ اپنے ایّامِ شباب کو شدت سے یاد کرتی تھیں اور ان باتوں کا تذکرہ کرتیں کہ انہوں نے کس طرح کی تنقید اور برائی کو خاطر میں لائے بنا ہمیشہ وہ کیا جو انہوں نے چاہا۔ دسمبر 2008 میں ممبئی میں بیگم پارہ انتقال کر گئیں۔”

Comments

یہ بھی پڑھیں