The news is by your side.

Advertisement

2 ہزار سال قدیم انسانوں کے سر کٹے ڈھانچے برآمد

برطانیہ میں ایک رومی قبرستان سے 2 ہزار سال قدیم انسانوں کے سر کٹے ڈھانچے برآمد ہوئے ہیں۔

ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے جنوبی انگلینڈ سے ایک رومی قبرستان میں دفن ہوئے 425 ڈھانچے نکالے ہیں، جن میں سے تقریباً 40 کے سر کٹے ہوئے ہیں۔

پچاس کے قریب ماہرینِ آثارِ قدیمہ کی ٹیم نے آئلسبری کے قریب ایک جگہ فلیٹ مارسٹن میں کھدائی کےدوران یہ دریافت کی، دریافت ہونے والی لاشوں میں 10 فی صد کے قریب ڈھانچوں کے سر کٹے ہوئے تھے، جن میں سے کئی کے سر ان کی ٹانگوں کے بیچ میں تھے یا ان کے پیروں کے نیچے۔

یاد رہے کہ رومیوں نے برطانیہ پر 43 عیسوی سے 410 عیسوی تک حکومت کی تھی، ماہرین کا خیال ہے کہ جن ڈھانچوں کے سر کٹے ہوئے ہیں وہ مجرم تھے یا معاشرے کے اچھوت تھے، اگرچہ رومی دور کے آخر میں سر کاٹنا عام بات تھی البتہ تدفین بہت کم کی جاتی تھی۔

آئندہ چند برس میں محققین دریافت ہونے والے ان ڈھانچوں کے متعلق مطالعہ کریں گے اور رومی تہذیب کے تاریخ طرزِ زندگی، غذا اور عقائد کے متعلق مزید جاننے کی کوشش کریں گے۔

ایچ ایس ٹو لمیٹڈ میں ہیریٹیج کے سربراہ ہیلن واس کا کہنا تھا کہ دریافت ہونے والی تمام انسانی باقیات کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آئیں گے اور دریافتوں کو برادری کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔

ٹیم نے اس جگہ سے 1200 سکّے بھی دریافت کیے، سکّوں کے ساتھ لیڈ ویٹ بھی دریافت ہوئے جس سے یہ علم ہوا کہ اس جگہ پر تجارت کی جاتی تھی۔

آثار قدیمہ سے ملنے والی دیگر اشیا میں چمچ، پن اور بروچ سمیت گھریلو اشیا کے ساتھ ساتھ گیمنگ ڈائس اور گھنٹیاں بھی ملی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ وہاں بھی جوا اور مذہبی سرگرمیاں ہوتی تھیں۔

ان دریافتوں کے ذریعے آثار قدیمہ کے ماہرین اپنے کھدائی کے کام کے ذریعے تقریباً دو ہزار سال قبل رومن برطانیہ میں زندگی کے بارے میں بھرپور تفصیلات سے پردہ اٹھانے میں کامیاب رہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں