The news is by your side.

Advertisement

بیروت دھماکے: لبنانی وزیراطلاعات سمیت چھ اراکین اسمبلی مستعفی

حکومتی ناکامی پر لبنانی عوام سے معذرت خواہ ہوں، وزیراطلاعات منال عبدالصمد

بیروت : لبنانی وزیر اطلاعات نے بیروت میں ہونے والے خوفناک دھماکوں پر حکومتی ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق لبنان کی وزیر اطلاعات سمیت چھ اراکین اسمبلی نے اپنے استعفے پیش کیے ہیں، وزیر اطلاعات منال عبدالصمد کا کہنا تھا کہ اپنے فیصلے سے وزیراعظم کو آگاہ کردیا تھا۔

وزیراطلاعات نے عوام کو فائدہ نا پہنچاسکنے اور حکومتی ناکامی پر معذرت طلب کی۔

منال عبدالصمد کے بعد دیگر اراکین اسمبلی نے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور کہا کہ اپنی تمام پارلیمانی سرگرمیاں اس وقت تک معطل کر رہے ہیں جب تک ایوان کی مدت میں کمی اور نئے انتخاب کا اعلان کرنے کے لیے پارلیمانی اجلاس طلب نہیں کیا جاتا۔

خیال رہے کہ لبنان کے دارالحکومت بیروت میں دھماکے کے بعد لبنان سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے، ہزاروں شہریوں کا حکومت کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مشتعل افراد نے وزارت خارجہ کی عمارت پر قبضہ بھی کرلیا تھا۔

مظاہروں کی شدت دیکھتے ہوئے ہفتہ آٹھ اگست کی شام لبنانی وزیر اعظم حسن دیاب نے اپنے نشریاتی خطاب میں قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کرانے کی تجویز بھی دے دی۔

اس کے باوجود عوامی غم و غصے میں کمی نہیں ہوئی اور ہفتے کی رات مظاہرین نے ملکی وزارت خارجہ سمیت کئی سرکاری عمارتوں میں داخل ہو گئے۔

جھڑپوں کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا، شہریوں نے بندرگاہ پر دھماکے کی ذمہ داری حکومت پر عائد کی ہے اور حکومت سے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا۔

دھماکے سے ہونے والی تباہی کا جائزہ لینے کے لیے جب دو وزرا موقع پر پہنچے تو لوگوں نے انھیں وہاں سے بھگا دیا۔ اس دھماکے میں تقریباً چھ ہزارافراد زخمی ہوئے ہیں اور تازہ اعدادو شمار کے مطابق30تیس ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

لبنان میں مظاہرے جاری، مشتعل مظاہرین کا سرکاری دفاتر پر قبضہ

بیروت میں امونیم نائٹریٹ کی بڑی مقدار پھٹنے سے ہونے والا دھماکا اس قدر شدید تھا کہ ماہرین کے مطابق اسے ایک بڑا دھماکا کہنے کی بجائے ایک چھوٹا ایٹمی دھماکا کہنا غلط نہ ہو گا۔

شہر کا وسیع علاقہ اس دھماکے کے باعث کھنڈر کا منظر نامہ پیش کر رہا ہے اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ دھماکے کی جگہ پر پڑنے والے گڑھے کی گہرائی 141 فٹ ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ دنوں بیروت میں ہونے والے ہولناک دھماکے کے نتیجے میں 150 افراد ہلاک جبکہ 6 ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں