اتوار, جون 7, 2026
اشتہار

اسرائیل کی تنقید پر ایڈیڈاس نے بیلا حدید کی تصاویر اشتہارات سے ہٹا دیں

اشتہار

حیرت انگیز

اسرائیل کی جانب سے تنقید پر جرمن کمپنی ایڈیڈاس نے امریکی فیشن ماڈل بیلا حدید کی تصاویر میونخ اولمپک گیمز کی مناسبت سے لانچ کیے گئے جوتوں کے اشتہار سے ہٹا دیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمن کمپنی نے 1972 کے میونخ اولمپکس سے متاثر ہو کر جوتوں (SL72) کا ڈیزائن پیش کیا تھا، جس کی اشتہاری مہم میں فلسطینی حامی سپر ماڈل بیلا حدید کو شامل کیا گیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے شدید تنقید کے بعد انھیں مہم سے ہٹا دیا گیا ہے۔

1972 کے میونخ اولمپکس میں ’فلسطینی بلیک ستمبر‘ گروپ نے اسرائیلی ایتھلیٹس کو یرغمال بنا دیا تھا، اس واقعے میں 11 کھلاڑی ہلاک ہو گئے تھے۔

جرمنی میں قائم اسپورٹس ویئر کمپنی نے جمعہ کو اے ایف پی کو بھیجے ایک بیان میں کہا کہ بیلا حدید کی شمولیت پر اسرائیلی تنقید کے بعد وہ اشتہاری مہم پر نظر ثانی کر رہے ہیں، کمپنی نے کہا کہ وہ اس بات سے آگاہ ہے کہ جوتوں کے ڈیزائن میں المناک تاریخی واقعات کا ٹچ دیا گیا ہے، لیکن یہ کسی ارادے کے تحت نہیں تھا، اس سے کسی کو تکلیف پہنچی ہو تو اس کے لیے ہم معذرت خواہ ہیں۔

واضح رہے کہ بیلا حدید کے والد فلسطینی ہیں، وہ کئی برس سے اسرائیلی حکومت پر کھل کر تنقید کرتی آ رہی ہیں، انھوں نے فلسطینیوں کی حمایت میں کئی بار انسٹاگرام پوسٹیں کیں، اور اپنے فالوورز سے کہا کہ وہ اپنے رہنماؤں پر دباؤ ڈالیں کہ غزہ میں عوام کے تحفظ کے لیے کردار ادا کریں۔

فلسطینی ماڈل نے یہ نعرہ لگا کر بھی اسرائیلی حکومت کو ناراض کیا تھا کہ ’’دریا سے سمندر تک فلسطین آزاد ہوگا‘‘ بیلا حدید پر اب سام دشمنی کا بھی الزام عائد کر دیا گیا ہے۔

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اسپورٹس ویئر کمپنی نے سام دشمنی کے الزامات کے بعد مشہور شخصیات کے ساتھ تعلقات منقطع کیے ہیں۔ ایڈیڈاس نے اکتوبر 2022 میں بھی یہود دشمنی کے الزام میں ریپر کنی ویسٹ کے ساتھ اپنی شراکت داری ختم کر دی تھی۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں