The news is by your side.

Advertisement

امریکی کمپنی ’بین اینڈ جیری‘ کا اسرائیلیوں کو آئسکریم کی فروخت سے انکار

یروشلم : یونی لیور کی آئس کریم بنانے والی کمپنی ’بین اینڈ جیری‘ نے مقبوضہ فلسطین پر قائم یہودیوں آبادیوں میں آئسکریم کی سپلائی پر پابندی لگادی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکی کمپنی یونی لیور کی آئسکریم بنانے والی کمپنی ’بین اینڈ جیری‘ کی جانب سے فلسطین پر قائم اسرائیلی بستیوں میں آئسکریم کی فروخت روک دی گئی ہے جس پر اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینٹ نے کمپنی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کی جانب سے بین اینڈ جیری کی مالک امریکی کمپنی کو وارننگ دی گئی ہے کہ اس کو قانونی اور دیگر نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ بین اینڈ جیری کا یہ فیصلہ اسرائیل کے خلاف بائیکاٹ اور وہاں سرمایہ کاری روکنے کی تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے کے مترادف ہے جو اسرائیل کے مکمل بائیکاٹ کے لیے کام کرتی ہے۔

آئسکریم بنانے والی کمپنی کے اس اقدام پر اسرائیلی شہریوں کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آرہا ہے تاہم فلسطینیوں کی جانب سے کمپنی کے اس فیصلے کو خوب پذیرائی مل رہی ہے۔

کمپنی نے غیرقانونی اسرائیلی بستیوں میں آئسکریم کی فروخت روکتے ہوئے کہا کہ غرب اردب اور مشرقی یروشلم میں ان کی اشیا کی فروخت ان کی ’اقدار کے مطابق نہیں ہے۔

غرب اردن اور شمالی یروشلم کے علاقے 1967 سے اسرائیل کے قبضے میں ہیں اور اب وہاں پر 140 سے زائد یہودی آبادیاں قائم جہاں 6 لاکھ سے زائد صیہونی مقیم ہیں۔ بین اینڈ جیریز کا کہنا ہے کہ ’آئس کریم کے شائقین اورمعتبر شراکت داروں‘ کی تشویش کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمپنی کے فیصلے کے بعد آئندہ برس اسرائیل میں بین اینڈ جیری کی فرنچائز بند ہوجائے گی تاہم کمپنی دیگر طریقوں سے کام جاری رکھے گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں