The news is by your side.

Advertisement

بے نظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ محفوظ

راولپنڈی : انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو قتل کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا، فیصلہ کل سنائے جانے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں آج بے نظیر بھٹو قتل کیس کی سماعت ہوئی عدالت نے دلالئل مکمل ہونے کے بعد مقدمہے کا فیصلہ محفوظ کر لیا جو کل سنائے جانے کا امکان ہے۔

آج سماعت کے دوران معزز عدالت کے سامنے ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر چوہدری اظہر، سابق سی پی او سعود عزیز اور سابق ایس پی خرم شہزاد پیش ہوئے۔

ذرائع کے مطابق بے نظیر قتل کیس کے 121 گواہان تھے تاہم ان میں سے صرف 68 گواہان نے اپنے بیانات ریکارڈ کرائے اور بے نظیر بھٹو کے ڈرائیور عبدالرحمان کے علاوہ سب سے تفتیش کی گئی۔

یاد رہے کہ 27 دسمبر2007ء کو لیاقت باغ میں جلسے سے خطاب کرنے کے بعد جلسہ گاہ سے روانہ ہی ہوئی تھیں کہ خود کش حملہ آور کا شکار بن گئیں اور موقع پر شہید ہوگئی تھیں جس کا مقدمہ تھانہ سٹی پولیس میں درج کیا گیا تھا۔

خیال رہے اس مقدمہ میں بے نظیر بھٹو کو مناسب سیکیورٹی فراہم نہ کرنے کے باعث اُس وقت کے صدر پرویز مشرف کوبھی شامل تفتیش کیا گیا تھا تاہم وہ عدالت سے غیر حاضر رہے جس پر انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انہیں مفرور قرار دیا تھا۔

یہ بات بھی حیران کن ہے کہ محترمہ کی شہادت کے بعد 2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی اور بی بی کے شوہر آصف علی زرداری صدر کے منصب پر فائز ہوئے لیکن اس دور میں اس مقدمہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی تھی.


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں