بدھ, مئی 20, 2026
اشتہار

دہی کے فوائد : السر کے مریضوں کے لیے سادہ گھریلو نسخہ سامنے آگیا

اشتہار

حیرت انگیز

السر جسم کے کسی عضو یا ٹشو کی پرت پر بننے والے کھلے زخم کو کہتے ہیں، یہ عام طور پر معدے یا چھوٹی آنت میں تیزابیت کی زیادتی یا حفاظتی تہہ کمزور ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔

اس کیفیت میں شدید جلن، درد، خون بہنا اور بدہضمی جیسی علامات ظاہر ہوسکتی ہیں، السر یعنی معدے کے زخم کا علاج عام طور پر اینٹی بائیوٹکس، تیزاب کم کرنے والی ادویات اور حفاظتی ایجنٹوں کے ذریعے کیا جاتا ہے جس کا مقصد انفیکشن کا خاتمہ اور زخم کو بھرنا ہے۔

اے آر وائی کیو ٹی وی کے پروگرام حکمت اور صحت میں میزبان حکیم عبدالباسط نے السر کے علاج کیلیے دہی کی افادیت سے متعلق ناظرین کو بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جس میں منہ، معدے یا آنتوں کی دیواروں پر زخم بن سکتے ہیں، بعض مریضوں میں یہ زخم ایک سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں جو تکلیف اور جلن کا باعث بنتے ہیں۔

انہوں نے اس حوالے سے ایک سادہ گھریلو نسخہ بھی تجویز کیا، جس کے مطابق روزانہ دو کیلے اور تقریباً 150گرام دہی کو ملا کر استعمال کیا جائے۔ اس آمیزے کو اچھی طرح مکس کر کے ناشتے کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مرکب میں اگر چینی شامل کرنی ہو تو سفید چینی کے بجائے گُڑ استعمال کرنا زیادہ مفید ہوسکتا ہے کیونکہ یہ نسبتاً قدرتی اور کم نقصان دہ سمجھا جاتا ہے۔

یہ نسخہ خاص طور پر پرانے السر کے مریضوں کے لیے بطور معاون علاج استعمال کیا جا سکتا ہے، تاہم اس کے لیے کم از کم 40 دن تک باقاعدگی سے استعمال ضروری بتایا جاتا ہے۔

حکیم عبدالباسط نے واضح کیا کہ یہ نسخہ صرف ایک گھریلو معاون طریقہ ہے، مکمل علاج نہیں، شدید یا پرانے السر کے مریض ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں، ہر مریض کی کیفیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے خود علاج سے گریز کریں۔

دوران علاج احتیاط کے طور پر مرچ مسالے، سگریٹ نوشی، الکحل اور سٹیرائڈز سے پرہیز ضروری ہے جبکہ دہی، پھل اور ریشہ دار غذاؤں کا استعمال مفید ہے۔

دہی صحیح وقت پر نہ کھائی تو تیار رہیں کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !! جانتے ہیں کیا ہوگا؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نوٹ : مندرجہ بالا تحریر معالج کی عمومی رائے پر مبنی ہے، کسی بھی نسخے یا دوا کو ایک مستند معالج کے مشورے کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

 

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں