site
stats
حیرت انگیز

ماضی کے ساون میں رنگ بھرنے والی بیر بہوٹی

ber bahoti

آج کل ملک بھر میں بارش کا موسم اپنے عروج پر ہے‘ ماضی میں اس موسم میں بیر بہوٹی کثرت سے ہوا کرتی تھی لیکن اب یہ انتہائی خوبصورت کیڑا شہروں سے معدوم ہوچکا ہے۔

جب کبھی ساون کا موسم آتا تھا اور بارش ہوتی تھی عموماً بچے بی بہوٹیاں پکڑنے نکل جاتے تھے لیکن آج کے مشینی دور میں رہنے والی ہماری نئی نسل شاید اس مخلوق کو کبھی حقیقی دنیا میں نہ دیکھ پائے۔

بیر بہوٹی ایک مشہور کیڑا ہے جو کہ ساون یا برسات کے موسم میں پیدا ہوتا ہے ‘ اس کو سندھی میں مینھن وساوڑو ‘ عربی میں کاغنہ اور‘ فارسی میں کرم عروسک اور انگریزی زبان میں ریڈ ویلوٹ مائٹ کہتے ہیں‘ یہ مکڑی کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے اور ا س کی ر نگت سرخ ہوتی ہے۔

 

اپنے چمکدار سرخ رنگ اور مخملی جلد کی وجہ سے یہ ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کا سائز پانچ سے چھ ملی میٹر تک ہوتا ہے۔ آٹھ ٹانگیں اور مکڑی جیسا منہ۔ اصل میں ان کا گہرا سرخ رنگ ان کے شکاریوں کے لئے وارننگ ہوتا ہے کہ یہ زہریلے ہیں لہٰذا ان سے دور رہا جائے۔

ماحول کی دوست

بیر بہوٹیاں مٹی میں رہتی ہیں اور سال کا اکثر حصہ زیر زمین ہی گزارتی ہیں۔ موسم گرما کی بارش کے بعد یہ سینکڑوں ہزاروں کی تعداد میں باہر نکل آتی ہیں۔ ان کی خوراک میں دیمک، چھوٹی مکڑیاں اور پھپوندی وغیرہ شامل ہیں۔

بیر بہوٹیاں ماحول دوست اور انسان کے لئے مفید ہیں۔ یہ مٹی میں موجود نقصان دہ کیڑوں کو کھاتی ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف اقسام کی بیکٹیریا وغیرہ بھی کھا جاتی ہیں جو کہ پودوں اور فصلوں کے لئے مضر ہوتی ہیں۔

دنیا کا سب سے بڑا کیڑا، چڑیا کے برابر*

ان کا طبی استعمال بھی کیا جاتا ہے۔ ہندوستانی و یونانی ادویات میں اس کو مختلف جڑی بوٹیوں کے ساتھ استعمال کر کے تیل بنایا جاتا ہے جو فالج کے مریضوں کے لئے مفید ہوتا ہے۔ اس کا تیل جنسی صلاحیت بڑھانے کے لئے بطور طلا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی لئے جب یہ برسات کے بعد باہر نکلتی ہیں تو اکثر لوگ ان کر جمع کرنے نکل پڑتے ہیں کیونکہ حکیم اور وید حضرات ان کو اچھی قیمت پر خرید لیتے ہیں۔جدید ریسرچ نے بھی اس کے تیل کو کافی مفید قرار دیا ہے۔

ber bahoti

آج بھی چین اور بھارت میں اس حسین کیڑے کی بہت زیادہ مانگ ہے اور ان دونوں ملکوں میں ا س بڑی مقدار فروخت ہوتی ہے۔

اب سے کچھ عرصہ قبل برسات میں اس کا نظر آنا معمول کی بات تھی لیکن اب شہروں میں یہ خال خال ہی دیکھنے میں آتی ہے ‘ امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی اب کمیاب ہوچکی ہے اورمحض بارش کے بعد ان علاقوں میں نظر آتی ہے جہاں آلودگی کا تناسب ہے اور ان میں ٹیکساس سرِ فہرست ہے۔

بیر بہوٹی کا تیل بنانے کے لیے عقر قرحا‘ جونک خشک‘ کیچوا خشک اور بیر بہوٹی سب پانچ گرام لے کر اگر 80 گرام زیتون کے تیل میں پکایا جائے تو فالج اور جوڑوں کے درد میں بے پناہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top