ہفتہ, مئی 16, 2026
اشتہار

بغداد ریلوے:‌ سلطنتِ عثمانیہ کا وہ خواب جو شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا

اشتہار

حیرت انگیز

ترقی پسند تحریک سے وابستہ عارف نقوی نے شاعری، افسانہ نگاری کے ساتھ سفرنامے اور یادداشتیں بھی تحریر کیں، صحافت اور ادبی مضامین کے علاوہ کئی تذکرے اور جائزے بھی ان کے قلم سے نکلے۔ عارف نقوی کی زندگی کا بڑا عرصہ جرمنی میں گزرا۔ انھوں نے اسی زمانے کے واقعات اور یادوں کو اپنی کتاب جرمنی میں نصف صدی کا حصّہ بنایا ہے۔

عارف نقوی نے اپنے زمانے کے عالمی سیاسی واقعات، جنگوں، عالمی قوتوں کے درمیان معاہدوں اور دنیا کے جغرافیے میں اہم تبدیلیوں کے لیے رچی گئی مختلف سازشوں کو بھی اپنا موضوع بنایا ہے۔ سلطنتِ عثمانیہ کے بغداد تک ریلوے لائن بچھانے کے ایک منصوبے سے متعلق یہ پارہ اسی تناظر میں ان کی کتاب سے نقل کیا جارہا ہے۔

"اس ریلوے لائن کی تعمیر کا خیال سلطان عبدالحمید کے ذہن میں آیا تھا، جو چاہتا تھا کہ ایک جدید ٹرانسپورٹ سسٹم قائم کرے اور کانسٹنٹی نوپل (قدیم شہر قسطنطنیہ) اور بغداد کے درمیان کنکشن قائم کرے۔ عثمانیہ سلطنت کانسٹنٹی نوپل سے خلیجِ فارس اور بلیک سی سے مکّے تک پھیلی ہوئی تھی۔ چانچہ کانسٹنٹی نوپل سے بغداد تک ریلوے لائن کی تعمیر کا کنٹریکٹ جرمنوں کو دیا گیا۔ جرمن بنکوں نے اس ریلوے لائن کی تعمیر میں رقم لگائی اور جرمن انجینئروں کو کام کی ذمے داری سونپی گئی۔ انجن، ریل کی پٹڑیاں اور کانسٹنٹی نوپل سے بغداد تک دیگر بھاری ساز و سامان پانی کے جہازوں سے وہاں پہنچایا گیا۔ جرمنی کے لئے یہ ایک بڑی فائدہ مند تجارت تھی۔ لیکن یہ کام آسان نہ تھا۔ اس ریلوے لائن کو سنسان میدانوں، پہاڑوں، دریاؤں اور تپتے ہوئے ریگستانوں کے بیچ سے گزرنا تھا۔”

"ابتدا میں کام اچھی طرح ہوا، مگر پھر مالی مشکلات اور نامناسب سیاسی حالات کی روشنی میں جرمن بنکوں نے لاگت لگانے سے ہاتھ روک لیا اور کام رک گیا۔ 1910ء میں جب سیاسی حالات معمول پر آئے تو جرمن بنک پھر سے لاگت لگانے کے لئے تیار ہو گئے۔ جب اس ریلوے لائن کا سلسلہ سیریا کے جنوب میں شہر الیپو کے قریب پہنچا تو برطانیہ کی تشویش بڑھ گئی۔ الیپو میں جرمن انجینئر ہائزش مائسز نے سلطان کے حکم سے زیارتی ریلوے بنالی تھی اور بغداد ریل وہاں پہنچنے کے بعد زیارتی مسافروں کے ساتھ ساتھ سپاہیوں اور ہتھیاروں کو بھی سینائی کے علاقے میں بھیجا جا سکتا تھا اور نہر سوئز پر حملے کئے جاسکتے تھے۔ یہ بات برطانیہ کے لئے کسی قیمت پر قابلِ برداشت نہیں تھی۔ چنانچہ برطانیہ نے اپنے دو ایجنٹوں گیرٹروڈ بیل (Gertrud Bell) جو ایک بڑے سرمایہ دار کی بیٹی تھی اور تھامس ایڈورڈ لارنس (Thomas Edward Lawrance) کی مدد سے اس پروجیکٹ کے بارے میں اطلاعات حاصل کیں اور اسے ناکام بنانے کی کوشش کی۔”

"بغداد ریلوے کی تعمیر مکمل ہونے سے کچھ ہی پہلے ۱۹۱۴ء کی پہلی عالمی جنگ شروع ہو گئی۔ سلطنتِ عثمانیہ نے اس جنگ میں جرمنوں کا ساتھ دیا۔ جرمن انجینئروں نے بھی اس ریلوے لائن کو مکمل کرنے کے لئے پورا زور لگا دیا اور اس کے ذریعے سپاہیوں اور ہتھیاروں کو عثمانیہ سلطنت کے جنوب میں پہنچایا جانے لگا۔ چنانچہ برطانیہ نے بصرہ پر قبضہ کر لیا اور خلیجِ فارس سے بغداد ریلوے کے لئے کمک کو روک دیا۔ ساتھ ہی بغداد ریلوے کی سپلائی کے ایک اہم بندرگاہ الکزاندریہ کو تباہ کر دیا۔ برطانوی ایجنٹ تھامس ایڈورڈ لارنس نے عرب ہندوؤں کی مدد سے اس ریلوے کی اہم پٹڑیوں کو اڑا دیا۔”

"برطانیہ کی نظر خلیجِ فارس کے تیل کے خزانوں پر بھی لگی ہوئی تھی۔ اس نے اپنے ہندوستانی فوجیوں کو اس علاقے میں بھیج کر تیل کے ذخیروں پر قبضہ جمانے کی کوشش کی اور ۱۹۱۷ء میں برطانیہ نے بغداد میں گھس کر عربوں کو ترکی کی عثمانیہ سلطنت سے آزاد کرانے میں مدد دی۔ اور ایک کٹھ پتلی مصنوعی عراقی ریاست بنا کر بغداد کو اس کا دارالسلطنت قرار دیا۔”

"۱۹۱۸ء میں جرمنی اور ترکی کی شکست کے بعد بغداد ریلوے کا عثمانی خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہو پایا۔ ۱۹۳۶ء میں آزادی حاصل کرنے کے بعد عراق نے اس ریلوے لائن کو بنانے کا کام شروع کیا، جو سن چالیس میں مکمل ہوا۔ ۱۵ جولائی ۱۹۴۰ ء کو پہلی ٹرین بغداد پہنچی۔حالانکہ سرکاری طور پر اس ریلوے لائن کا افتتاح ۹ اگست ۱۹۴۰ء کو کیا گیا۔”

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں