The news is by your side.

Advertisement

جرمنی کی عدالت نے مسلم خاتون ٹیچر کو پرائمری اسکول میں تدریس سے روک دیا

برلن : جرمنی کی عدالت نے مسلم خاتون ٹیچر کی سیکنڈری اسکول میں تعیناتی کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ محمکہ تعلیم کے لیے ضروری نہیں کہ وہ مسلم خاتون کو پرائمری اسکول میں تعینات کرے۔

تفصیلات کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن کی لیبر کورٹ نے بدھ کے روز فیصلہ سنایا ہے کہ برلن میں تمام سرکاری ملازمین کو حجاب پہننے پر پابندی ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برلن کے اسکول میں تدریس کرنے والی مسلم خاتون نے لیبر کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ صوبائی محمکہ تعلیم نے انہیں پرائمری اسکول میں تعینات کرنے کے بجائے سیکنڈری اسکول میں بھیج دیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران دونوں فریقین کمرہ عدالت میں موجود تھے، جب عدالت نے فیصلہ دیا کہ یہ لازمی نہیں ہے کہ محمکہ تعلیم پرائمری اسکول میں تعینات کرکے چھوٹے بچوں کو پڑھانے کی اجازت دے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ مسلم خاتون نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ محمکہ تعلیم کا یہ رویہ سرکاری ملازمین کے قوانین کے مخالف ہے اور میرے ساتھ روز گار کے حوالے سے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

مسلم خاتون کا کہنا تھا کہ محمکہ تعلیم نے ان کے ساتھ یہ رویہ اس لیے اپنایا ہے کہ ’میں ایک مسلمان خاتون ہوں باحجاب تدریس کے عمل کو جاری رکھتی ہوں، جو جرمنی میں مذہبی آزادی کے قوانین کے مطابق ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ مسلم خاتون کے مؤقف پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ محمکہ تعلیم کا مسلم خاتون ٹیچر کے حوالے سے کیا گیا فیصلہ مذہبی آزادی کے قوانین کے مخالف ہے اور نہ ہی ملازمین کے مساوی حقوق کی خلاف ورزی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ یہ بات صوبے میں ملازمین کے مساوی قوانین کے عین مطابق ہیں جس کے تحت پرائمری اسکولوں میں حجاب پہننے والی خواتین کو پڑھانے کی اجازت نہ دی جائے۔

عدالت کا مزید کہنا تھا کہ برلن کے محمکہ تعلیم کے لیے ضروری ہے کہ پرائمری اسکولوں کے بچوں کے لیے ایسے تعلیمی ماحول کو فروغ دیا جائے جس میں مذہبی عنصر شامل نہ ہو۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں