The news is by your side.

Advertisement

ٹوکیو اولمپکس میں ایک اور ریکارڈ

ٹوکیو اولمپکس میں ٹرائیتھلون کے مقابلے میں فلورا ڈفی کے میڈل کی بدولت برمودا اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے والا دنیا کا سب سے کم آبادی والا ملک بن گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق 33 سالہ فلورا ڈفی چوتھی مرتبہ اولمپکس میں شریک ہوئیں اور 56 خواتین کے مقابلے میں ٹرائیتھلون میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے طلائی تمغہ جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا۔

انہوں نے ایک گھنٹہ 55 منٹ اور 36 سیکنڈز میں یہ فاصلہ طے کیا جبکہ انگلینڈ کی جیارجیا ٹیلر براؤن دوسرے اور امریکا کی کیٹی زیفرس نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔

یہ 63 ہزار آبادی کے حامل ملک برمودا کا اولمپکس میں پہلا گولڈ میڈل ہے اور اس کے ساتھ ہی وہ اولمپک کا طلائی تمغہ جیتنے والا دنیا کا سب سے کم آبادی والا ملک یا خطہ بن گیا ہے۔

اس سے قبل اولمپک میں میڈل جیتنے والے سب سے کم آبادی والے ملک کا اعزاز بھی برمودا کے پاس ہی تھا جب 1976 میں کلیرنس ہل نے باکسنگ میں کانسی کا تمغہ اپنے نام کیا تھا۔

33 سالہ ڈفی نے کہا کہ میں پانچ سال سے شدید دباؤ کا شکار تھی اور مجھے کبھی بھی اولمپکس فیورٹ تصور نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ برمودا میں سب خوشی سے پاگل ہو رہے ہوں گے جس کی وجہ سے یہ میرے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، یہ میرا خواب تھا جو آج پورا ہوگیا۔

یاد رہے کہ بچپن میں ڈفی کو برطانیہ کی نمائندگی کی پیشکش کی گئی تھی لیکن انہوں نے اسے ٹھکرا دیا تھا اور 2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں برمودا کے لیے چیمپیئن بننے والی دنیا کی پہلی خاتون بننے کا اعزاز حاصل کر کے تاریخ رقم کی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے فخر ہے کہ میں برمودا کے لیے میڈل جیتنے والی پہلی ایتھلیٹ اور خاتون ایتھلیٹ بن گئی ہوں اور امید ہے کہ اپنے ملک میں کئی لوگوں کے لیے تحریک کا سبب بنوں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں