ہفتہ, جون 13, 2026
اشتہار

برٹرینڈ رسل: فلسفی اور ماہرِ تعلیم

اشتہار

حیرت انگیز

برٹرینڈ رسل کو ان کے فلسفۂ تعلیم، تہذیبی شعور اور سماجی نظریات کے سبب مغرب میں بے پناہ مقبولیت حاصل رہی ہے۔ انھیں ایک معلّم اور ماہرِ تدریس کے طور پر شہرت ملی جن کی تحریروں کے بشمول اردو دنیا بھر کی زبانوں میں تراجم ہوئے۔ یوں ان کے خیالات نے پاک و ہند میں بھی ایک طبقہ کو متاثر کیا۔ رسل کے افکار کو جدید دنیا میں تنقید کے ساتھ اکثر رد بھی کیا گیا مگر آج بھی انھیں بحیثیت ماہرِ تعلیم بہت اہمیت دی جاتی ہے۔

برٹرینڈ رسل کے مضامین اسکول اور جامعات کی سطح پر پڑھائے جاتے رہے ہیں جو طلباء میں سوجھ بوجھ پیدا کرنے اور ان میں صلاحیتیں اجاگر کرنے کا ذریعہ بنے ہیں۔ وہ فلسفی، مؤرخ، مصنّف اور ماہرِ منطق تھے جن کو عالمی شہرت ملی۔ برٹرینڈ رسل 1970ء میں آج ہی کے روز برطانیہ میں چل بسے تھے۔ روایتی تعلیم کے بجائے طالبِ علموں کو اختراع اور ایجاد کی جانب متوجہ کرنے پر زور دینے والے برٹرینڈ رسل دراصل تدریسی و تعلیمی نظام میں جدّت اور آزادیٔ اظہار کی اہمیت کے قائل تھے۔

وہ شروع ہی سے علم و فنون کے شیدائی تھے۔ ریاضی کے مضمون میں گہری دل چسپی نے انھیں اس مضمون کے ماہر کے طور پر شہرت دی۔ رسل کو ایک قابل و باصلاحیت طالبِ علم سمجھا جاتا تھا جس نے ریاضی کے ساتھ متعدد علوم میں اپنی مہارت اور استعداد کا خوب مظاہرہ کیا۔ رسل نے 18 مئی 1876ء کو انگلستان کے مشہور علاقے ویلز میں آنکھ کھولی۔ وہ کسی معمولی خاندان کا فرد نہیں‌ تھے بلکہ ان کے والد سر جان رسل انگلستان کے وزیرِ اعظم رہے تھے۔ ان کا گھرانہ کٹّر مذہبی اور طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھتا تھا۔ ابتدائی تعلیم ویلز سے ہی حاصل کی۔ دولت مند والدین کی زندگی مصروف تھی جس نے انھیں بچپن میں خاصا وقت تنہائی میں‌ کھیل کود کے ساتھ غور و فکر اور سیکھنے سمجھنے کا موقع دیا۔ ان کی ذاتی زندگی کچھ تلخ یادوں اور مشکلات سے بھی گزری، مگر اس نے ان میں‌ وہ شوق اور لگن بھر دی جس کے باعث وہ دنیا میں‌ ممتاز ہوئے۔

برٹرینڈ رسل ایک ذہین طالب علم تھے۔ 1890ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے ریاضی کی اعلیٰ سند حاصل کی۔ پھر اسی یونیورسٹی میں مدرّس کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کے علاوہ نیشنل یونیورسٹی آف پیکنگ (چین)، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور دوسرے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریسی مشغلہ ساری عمر رہا۔ رسل کی علمی کاوشوں اور مفید فلسفیانہ کام کی بات کی جائے تو انھوں نے سائنس، تاریخ، سیاست، معاشرت، جنگ، امن، قانون اور انسانی حقوق سے متعلق کئی کتب اور مضامین تحریر کیے جو معلومات کا خزانہ ہیں۔ سماجی اعتبار سے ان کا کردار ایسے باشعور اور بیدار مغز فرد کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے جبر اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی۔ انھوں نے اپنی مقبولیت اور معاشرتی اثر و رسوخ کی بنیاد پر ویتنام کی جنگ میں واشگاف الفاظ میں امریکا کو بھی مطعون کیا۔ برٹرینڈ رسل اس پاداش میں‌ پابندِ سلاسل بھی رہے۔

برٹرینڈ رسل تادمِ آخر اپنی دل چسپی کے موضوعات پر تصنیف و تالیف میں مصروف رہے۔ وہ ایک کہانی کار بھی تھے اور ان کی کہانیوں کے دو مجموعے بھی شائع ہوئے تھے۔ 1950ء میں برٹرینڈ رسل کو ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ انھوں نے اپنی آپ بیتی بھی لکھی جو 1967ء میں شائع ہوئی اور اسے دنیا کی مقبول آپ بیتیوں میں سے ایک کہا جاتا ہے۔ برٹرینڈ رسل نے 1970ء میں عرب اسرائیل جنگ میں کھلم کھلا اسرائیل کی مخالفت کی تھی۔ وہ ایک ایسے فلسفی اور انسانی حقوق کے علم بردار تھے جس نے اسرائیل کو غاصب قرار دیا تھا۔

+ posts

اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں