The news is by your side.

Advertisement

علم کا شیدائی، تدریس کا ماہر برٹرینڈ رسل جسے پابندِ سلاسل کیا گیا

برٹرینڈ رسل ایک معلّم، مؤرخ، فلسفی، ادیب اور ماہرِ منطق تھے جو 2 فروری 1970ء کو برطانیہ میں وفات پا گئے تھے۔ برٹرینڈ رسل کی وجہِ شہرت ان کا وہ فلسفہ تھا جس کے مطابق وہ روایتی تعلیم کے بجائے طالبِ علموں کو اختراع اور ایجاد کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے پر زور دیتے ہیں۔

وہ تدریسی و تعلیمی نظام میں جدّت اور آزادیٔ اظہار کو اہمیت اور فروغ دینے کے قائل تھے جس کے ذریعے ان کی نظر میں ننھّے ذہنوں میں تخیّل اور اختراع کو بلا رکاوٹ پنپنے کا موقع دیا جاسکتا تھا۔

علم کے شیدائی اور تدریس کے اس ماہر کا اوّلین عشق ریاضی کا مضمون تھا۔ تعلیمی میدان میں‌ ان کی مہارت صرف اسی مضمون تک محدود نہ تھی بلکہ وہ متعدد علوم پر دسترس رکھتے تھے۔ برٹرینڈ رسل نے 18 مئی 1876ء انگلستان کے مشہور علاقے ویلز میں آنکھ کھولی۔ وہ کسی معمولی خاندان کا فرد نہیں‌ تھے بلکہ ان کے والد سر جان رسل انگلستان کے وزیرِ اعظم رہے ہیں۔ ان کا گھرانہ کٹّر مذہبی اور طبقۂ اشرافیہ سے تعلق رکھتا تھا۔ ابتدائی تعلیم ویلز سے ہی حاصل کی۔ دولت مند والدین کی زندگی مصروف تھی جس نے انھیں بچپن میں خاصا وقت تنہائی میں‌ کھیل کود کے ساتھ غور و فکر اور سیکھنے سمجھنے کا موقع دیا۔ ان کی ذاتی زندگی کچھ تلخ یادوں اور مشکلات سے بھی گزری، مگر اس نے ان میں‌ وہ شوق اور لگن بھر دی جس کے باعث وہ دنیا میں‌ ممتاز ہوئے۔

وہ بچپن سے ہی نہایت ذہین طالب علم تھے۔ 1890ء میں کیمبرج یونیورسٹی سے ریاضی کی اعلیٰ سند حاصل کی۔ پھر اسی یونیورسٹی میں مدرّس کی ذمہ داریاں نبھائیں۔ اس کے علاوہ نیشنل یونیورسٹی آف پیکنگ (چین)، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا اور دوسرے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں تدریسی مشغلہ ساری عمر رہا۔

برٹرینڈ رسل کی علمی، ادبی اور فلسفیانہ خدمات کی بات کی جائے تو ان کے غور و فکر، مشاہدات اور تجربات نے ان سے فلسفہ، سائنس، تاریخ، سیاست، معاشرت، جنگ، امن، قانون اور انسانی حقوق سے متعلق کئی کتب اور مضامین تحریر کروائے جو آج بھی ان کی یاد دلاتے ہیں اور ہر ایک کے لیے مفید اور معلومات کا خزانہ ہیں۔ وہ ایسے بیدار مغز تھے جنھوں نے ویتنام کی جنگ میں واشگاف الفاظ میں امریکا کو مطعون کیا۔ انھیں اپنی انسان دوستی کی پاداش میں‌ پابندِ سلاسل بھی رہنا پڑا۔

برٹرینڈ رسل کو 1950ء میں ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔ 1967ء میں ان کی آپ بیتی شائع ہوئی جس کا شمار دنیا کی مقبول آپ بیتیوں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے 1970ء میں عرب اسرائیل جنگ میں کھلم کھلا اسرائیل کی مخالفت کی اور اسے غاصب قرار دیتے ہوئے مغرب میں انسانیت کا پرچار کرنے والوں میں شمار کیے گئے۔

وہ دمِ آخر تک لکھنے لکھانے اور اپنے افکار و خیالات کا اظہار کرنے میں‌ مصروف رہے۔ وہ کہانی کار بھی تھے، جن کے افسانوں کے دو مجموعے شائع ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں