The news is by your side.

Advertisement

’’بہترین کھانا، بدترین سروس‘‘ انوکھا ریسٹورینٹ کھل گیا

آسٹریلیا میں کھلا ہے ایسا ریسٹورینٹ جہاں کھانا تو لذیذ ہے لیکن عملہ بدتمیز اور یہی اس کا سلوگن ہے یعنی ’بہترین کھانا اور بدترین سروس‘۔

گھر سے باہر کھانا کھانا ہو تو ہر شخص ایسے ریسٹورینٹ تلاش کرتا ہے جہاں لذیذ کھانے کے ساتھ پرسکون ماحول اور خوش اخلاق عملہ ہو لیکن اگر کبھی کسی کو ریسٹورینٹ عملے کی بدسلوکی کا سامنا ہو، ویٹر آپ پر چیخے چلائے یا کھانا بدتمیزی سے پیش کرے تو سوچیں کیا ہوگا؟

ہوسکتا ہے کہ آپ وہیں ویٹر کو اس کی بدتمیزی کا مزا چکھا دیں یا ہوٹل انتظامیہ سے شکایت کریں یہ بھی نہ ہوا تو اتنا تو یہ تو طے ہے کہ آپ دوبارہ اس جگہ کا رخ نہیں کرینگے۔

 

لیکن دنیا میں ایسی ایسی عجوبہ باتیں ہوجاتی ہیں کہ جن پر عام حالات میں یقین کرنے کو دل بھی نہیں چاہتا ہے جیسا کہ آسٹریلیا میں ہوا ہے جہاں ایک ایسا ریسٹورینٹ کھولا گیا ہے جس کا کھانا تو لذیذ ہے لیکن عملہ بدتمیز، یہی ان کا سلوگن یعنی (Great Food, Terrible Service)ہے اور گاہک بھی وہاں ویٹرز اور ویٹریسز کی بدتمیزی کو ہنس ہنس کر برداشت کرتے ہیں۔

سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ بدتمیز ہونا ہی وہاں ملازمت کے حصول کی سب سے بڑی اہلیت ہے، یعنی جو جتنا زیادہ بدتمیز اس کے وہاں نوکری حاصل کرنے کے اتنے ہی زیادہ امکانات ہیں۔

 

یہ ہوٹل آسٹریلیا شہر سڈنی میں گزشتہ سال اکتوبر میں کھولا گیا تھا لیکن ریسٹورینٹ اور اس کے بدتمیز ویٹر اور ویٹریسز لوگوں کو اتنا من بھائے ہیں اور یہ اتنا مقبول ہوا ہے کہ ریسٹورینٹ مالکان کی چاندی ہوگئی ہے کہ جلد ہی وہ بدتمیز ریسٹورینٹس کا دائرہ ملک کے دیگر شہروں سمیت دنیا بھر میں پھیلانے کا ارادہ رکھتے ہیں

کیرنز ڈائنز کے نام سے کھولے گئے اس ہوٹل میں آپ جائیں تو عملہ آپ کا خوشدلی سے استقبال کرنے کے بجائے آپ سے بدتمیزی کرتے ہوئے اور مذاق اڑاتے ہوئے آپ کا استقبال کریگا۔

کیرنز ڈائنر سڈنی میں لنچ کرنے والی ایک مقامی خاتون نے مقامی اخبار کو اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ بیرے وہاں آنے والے گاہکوں پر چیخ رہے تھے اور ان کی میزوں پر مینیو پٹخ پٹخ کر رکھ رہے تھے۔ یہی نہیں بلکہ وہ بیہودہ فقروں کے ساتھ گاہکوں کے بالوں اور کپڑوں کا مذاق بھی اڑا رہے تھے۔

خاتون نے مزید بتایا کہ اگر گاہک غلطی سے کچھ پوچھ لے تو بیرے جواب میں انہیں برا بھلا کہنے لگتے ہیں اور گالیاں تک دیتے ہیں لیکن گاہک یہ سب خوش دلی سے برداشت کرتے ہیں کیونکہ وہ کھانے کے ساتھ ان سب کا مزا لینے ہی وہاں آتے ہیں۔

کیرنز ڈائنز نامی یہ بدتمیز ریسٹورینٹ ایڈن لیون نامی شخص کے ذہن کی انوکھی اختراع کے نتیجے میں عملی طور پر وجود میں آیا ہے جو ’وائرل وینچرز‘ نامی ٹیکنالوجی کمپنی کے ڈائریکٹر بھی ہیں۔

ایڈن لیون کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ ان کے ذہن میں ایسی جگہ کا خاکہ تھا جہاں ہر شخص کو آزادی کے ساتھ سب کچھ کہنے اور کرنے کی آزادی ہو تو اسی لیے میں نے اس ریسٹورینٹ کو ایک ایسی جگہ کے طور پر بنایا کہ جہاں آپ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں اور کھانے کے علاوہ جو آپ کا دل چاہے وہ کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس ریسٹورینٹ میں صرف ویٹرز کو ہی بدتمیزی کی اجازت نہیں بلکہ گاہک بھی بدتمیزی کرنے کیلیے مکمل آزاد ہیں۔

کیرنز ڈائنز انتظامیہ کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں سڈنی میں پہلا ریسٹورینٹ کھولا گیا تھا جس کو عوام میں اتنی پذیرائی ملی کہ آئندہ ماہ برسبین میں اس کی دوسری برانچ کھولنے جارہے ہیں جب کہ تیسرا ریسٹورینٹ میلبورن میں بھی اسی سال شروع کردیا جائیگا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آسٹریلیا کے علاوہ برطانوی شہر شیفیلڈ میں کیرنز ڈائنر کا ایک ریسٹورینٹ اسی مہینے لانچ کردیا جائے گا جبکہ مانچسٹر میں ان کا دوسرا برطانوی ریسٹورینٹ بہت جلد متوقع ہے جب کہ امریکا سمیت اگلے سال کے اختتام تک اس ادارے کے 10 ریسٹورینٹ مختلف ملکوں میں کھولے جاچکے ہوں گے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں