لاہور (01 جنوری 2026): بھاٹی گیٹ سیوریج لائن میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے کیس میں جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس نے گرفتار ملزمان کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے آئندہ سماعت پر مقتولہ کے قانونی وارثان کو پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے، تحریری حکم میں کہا گیا ہے کہ پولیس واسا اور سول انتظامیہ کی غفلت کے پہلو پر بھی تفتیش کرے۔
عدالتی حکم کے مطابق پولیس نے مقدمے میں گرفتار 5 ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے پیش کیا، ملزمان پر 2 افراد کو غیر ارادی طور پر قتل کرنے کا الزام ہے، سعدیہ صابر اور ردا فاطمہ مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئیں، تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان سے تفتیش مکمل کرنے کے لیے جسمانی ریمانڈ درکار ہے، کیوں کہ تعین کرنا ہے کہ واقعہ جان بوجھ کر قتل کا ہے یا غفلت کا، تفتیشی افسر کے مطابق اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کنسٹرکشن سائٹ پر وقوعہ کی ذمہ داری کس کی تھی؟
تحریری حکم کے مطابق ملزم کے وکیل نے بتایا کہ سلمان کا وقوعہ سے تعلق نہیں ہے، ملزم کے وکیل کے مطابق وہ معاوضہ دینے کو تیار ہیں، وکیل نے ملزم سلمان کو مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی، لیکن ابتدائی مرحلے پر ملزمان کے خلاف کارروائی ختم نہیں کی جا سکتی، اس لیے تفتیشی افسر کو مکمل اور گہرائی سے تفتیش کا موقع دیا جاتا ہے۔
عدالت نے حکم دیا ہے کہ واسا اور سول انتظامیہ کی مشترکہ غفلت کے پہلو کی بھی تحقیقات کی جائے، اور یہ عدالت ملزمان کا 4 فروری تک جسمانی ریمانڈ منظور کرتی ہے۔ واضح رہے کہ ملزمان میں پروجیکٹ منیجر اصغر علی، سیفٹی انچارج محمد حنزلہ، سائٹ انچارج احمد نواز، سلمان یاسین اور عثمان شامل ہیں۔
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں


