لاہور (31 جنوری 2026): لاہور کی مقامی عدالت نے بھاٹی گیٹ مین ہول حادثے کے ملزمان کو چار روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا۔
لاہور میں ضلع کچہری میں بھاٹی گیٹ مین ہول میں گر کر ماں بیٹی کے جاں بحق ہونے کے کیس کی سماعت ہوئی، پولیس نے ملزموں کو کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ شفقت عباس کی عدالت میں پیش کیا۔
ملزمان میں پروجیکٹ منیجر اصغر سندھو، سیفٹی انچارج حنظلہ اور سائٹ انچارج احمد نواز سمیت 5 ملزمان شامل تھے، دیگر دو ملزمان میں نجی کمپنی کے دو بھائی سلمان اور عثمان شامل ہیں۔
دوران سماعت پولیس نے ملزمان کے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی، پولیس کا مؤقف تھا کہ واقعے کی گہرائی تک پہنچنے اور غفلت کے ذمہ داروں کے خلاف ٹھوس شواہد جمع کرنے کے لیے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ ناگزیر ہے۔
تاہم ملزمان کے وکیل نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی مخالفت کی، اور مؤقف اختیار کیا کہ یہ انتہائی افسوس ناک واقعہ تھا، ملزمان کی جانب سے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر متاثرہ خاندان کو ایک کروڑ روپے کا چیک بطور ہرجانہ دیا گیا ہے۔
لاہور بھاٹی گیٹ واقعہ: “پولیس نے تشدد کرکے بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کرانے کی کوشش کی”
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہمدردی کی بنیاد پر ایک کروڑ روپے کی رقم لواحقین کو ادا کی گئی ہے، دیت کی رقم جرم ثابت ہونے کے بعد ادا کی جاتی ہے، تاہم اس معاملے کی طرف ہم نہیں جانا چاہتے، کیوں کہ یہ ایک حادثہ تھا۔ وکیل نے رقم کی ادائیگی کے لیے چیک کی فوٹو کاپی بھی عدالت میں پیش کی۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
واضح رہے کہ لاہور داتا دربار کے قریب ماں بیٹی کے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہونے پر پولیس نے واقعے کو حادثہ قرار دیتے ہوئے متوفیہ کے والد ساجد کی مدعیت میں مقدمہ تھانہ بھائی گیٹ میں درج کر لیا ہے، تین نامزد ملزمان گرفتار بھی کر لیے گئے ہیں، جب کہ مدعی مقدمہ نے پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر پر غفلت اور لاپرواہی کا الزام عائد کیا۔
واقعے کے بعد حکومتی مشینری حرکت میں آئی، 47 افسران کو برخاست کیا گیا جب کہ گٹر کور کرنے کے ساتھ ترقیاتی کاموں کے گرد لوہے کی باؤنڈری شیٹ بھی لگا دی گئی، تاکہ آئندہ ایسے حادثات سے بچا جا سکے۔
عابد خان اے آروائی نیوز سے وابستہ صحافی ہیں اور عدالتوں سے متعلق رپورٹنگ میں مہارت کے حامل ہیں


