لاہور : بھاٹی گیٹ واقعے میں جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے الزام عائد کیا پولیس نے تشدد کرکے بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کرانے کی کوشش کی۔
تفصیلات کے مطابق لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں پیش آنے والے افسوسناک حادثے میں جاں بحق خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس اور ریسکیو حکام کے رویے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا تھا کہ مجھے ایک کروڑ روپے کی ضرورت نہیں ہے، ایک کروڑ روپے سے میرے بچوں کو ان کی ماں تو نہیں مل سکتی۔
غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ وہ پیر کے روز اپنی اہلیہ اور بچوں کے ہمراہ لاہور آئے تھے، جہاں انہوں نے چڑیا گھر، بادشاہی مسجد اور داتا دربار کی زیارت کی، داتا دربار سے واپسی پر سڑک کراس کرتے ہوئے حادثہ پیش آیا۔
جاں بحق خاتون کے شوہر نے کہا کہ رکشے میں سوار ہوتے وقت ان کی اہلیہ اور بیٹی کھلے مین ہول میں گر گئیں اور یہ سارا واقعہ ان کی آنکھوں کے سامنے ہوا، مگر وہ کچھ نہ کر سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ کہ حادثے کے فوراً بعد خود ریسکیو 1122 کو کال کی اور مدد کے لیے پکارا، تاہم بعد میں ریسکیو حکام نے بیوی اور بیٹی کے گٹر میں گرنے کے واقعے کو جعلی قرار دے دیا۔
غلام مرتضیٰ کا الزام ہے کہ ایس ایچ او زین نےتھانےمیں مجھ پرتشددکیا، مجھ پرتشددکےدوران ایس پی بلال بھی موجودتھا، پولیس نے بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا اعتراف کرانے کی کوشش کی.
ڈی آئی جی نے واقعے کا علم ہونے پر ماتحت افسران کو ڈانٹا اور تشدد پر ایس ایچ او زین عباس کی سرزنش بھی کی گئی، تاہم بعد ازاں ایس ایچ او کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق پولیس بیان بدلوانا چاہتی تھی کہ جس رکشے میں وہ سوار تھے وہ کسی اور کا تھا، حالانکہ وہ رکشہ ان کے کزن کا تھا جو اس وقت ساتھ موجود تھا، حادثے کے وقت ان کے دو بچے بھی ان کے ہمراہ تھے۔
جاں بحق خاتون کے شوہر نے کہا کہ پولیس یہ دعویٰ کرتی رہی کہ وہ سیف سٹی کیمروں میں نظر نہیں آئے، جبکہ دورانِ حراست ایک ایس پی ان کی اہلیہ کی تصویر لے کر آیا جسے انہوں نے پہچان لیا۔
ان کے مطابق ڈی آئی جی نے واقعے کا علم ہونے پر ماتحت افسران کو ڈانٹا اور تشدد پر ایس ایچ او زین عباس کی سرزنش بھی کی گئی، تاہم بعد ازاں ایس ایچ او کی جانب سے انہیں دھمکیاں دی گئیں۔
غلام مرتضیٰ نے کہا کہ مریم نواز نے ان کی داد رسی کی، تاہم پولیس کا رویہ مجموعی طور پر بیہمانہ رہا، اب ہمارا کوئی مطالبہ نہیں، بس انصاف چاہیے۔


