The news is by your side.

Advertisement

کراچی کے حلقے پی ایس 106 اور پی ایس 117 میں ضمنی الیکشن کل ہونگے

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے دو ارکانِ اسمبلی افتخار عالم اور ڈاکٹر صغیر احمد کی پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت اور رکن اسمبلی کی نشستوں سے مستعفیٰ ہونے سےخالی ہونے والے دو حلقوں پی ایس 106 اور پی ایس 117 میں ضمنی الیکشن کل جمعرات ہونگے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ اسمبلی کی نشست 106 سے رکن اسمبلی افتخار عالم اور اور حلقہ پی ایس 117 سے ڈاکٹر صغیر احمد نے متحدہ قومی مومنٹ چھوڑ کر پاک سر زمین پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی تھی، دونوں اراکین اسمبلی نے اپنے استعفے اسپیکر اسمبلی کو بھیجوا دیے تھے جس کے بعد کل 2جون بروز جمعرات کو ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں۔

واضع رہے کہ افتخار عالم کی جانب سے چھوڑی گئی نشست پی ایس 106کا حلقہ لیاقت آباد، حسین آباد اور عزیز آباد کے علاقوں پر مشتمل ہے،حلقے میں ایک لاکھ 71 ہزار سے زائد ووٹرز ہیں،جس کے لیےایک لاکھ 72 ہزار بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں،حلقہ کے 100 میں سے 23 پولنگ اسٹیشن کو حساس ترین اور 77پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دے دیا گیا ہے۔

پی ایس 106 کے لیے متحدہ قومی موومنٹ کے محفوظ یار خان، تحریک انصاف کے نصرت انوار، پیپلز پارٹی کے سردار عبدالصمد، پاکستان راہ حق پارٹی کے محمد ہارون اور پاسبان کے جواد شیرازی اہم امیدوار ہیں،جب کہ اصل مقابلہ محفوظ یار خان، نصرت انوار اور سردار عبدالصمد کے درمیان متوقع ہے۔

دوسری جانب سابق وزیر صحت ڈاکٹر صغیر احمد کی جانب چھوڑی گئی نشست پی ایس 117 کا حلقہ پاکستان کوارٹرز، سولجر بازار، مارٹن کوارٹرز، پی آئی بی کالونی، پٹیل پاڑہ اور لسبیلہ پر مشتمل ہے جہاں ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 62 ہزار ہے اوراتنے ہی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں۔

پی ایس 117 میں شامل 10 امیدواروں میں متحدہ قومی موومنٹ کے سید محمد قمر عباس رضوی،پیپلزپارٹی کے جاوید مقبول بٹ،تحریک انصاف کے رفاقت عمر،جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سید نعیم شاہ اسلامی تحریک پاکستان کے علی رضا اور پاسبان کے ضیاء الرحمن نمایاں ہیں،جب کہ اصل مقابلہ ایم کیوایم، تحریک انصاف، پیپلزپارٹی اور اسلامی تحریک پاکستان کے درمیان متوقع ہے حلقہ پی ایس 117کے 84 میں سے 40 پولنگ اسٹیشنز کو حساس ترین اور 44 پولنگ اسٹیشنوں کو حساس قرار دیا گیا ہے۔


کراچی ضمنی الیکشن: وزیراعلیٰ سندھ نے وفاق سےفوج اور رینجرزکی خدمات مانگ لیں


دونوں حلقوں میں مجموعی طور پر 3 ہزار سے زائد پولیس، رینجرز اور دیگر سیکیورٹی اہلکار تعینات ہوں گے۔ صوبائی الیکشن کمشنر تنویر ذکی نے کہا کہ تمام انتخابی سامان قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نگرانی متعلقہ حکام تک پہنچا دیا ہے،جو ایک روز قبل پولنگ اسٹیشن پر پہنچایا جائے گا۔مانیٹرنگ کے لئے ہر حلقے میں 4،4 ٹیمیں ہوں گی، جبکہ اسلام آباد میں مرکزی ٹیم بھی مانیٹر کرے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں