The news is by your side.

Advertisement

ووٹ فروخت کا معاملہ، خاتون رکن اسمبلی کا پرویز خٹک کو الزام ثابت کرنے کا چیلنج

پشاور: چترال سے خواتین کی مخصوص نشست پر منتخب ہونے والی  تحریک انصاف  کی ممبر صوبائی اسمبلی خیبرپختونخواہ فوزیہ بی بی نے سینیٹ انتخابات میں ووٹ فروخت  کرنے کے الزام کو  مسترد کرتے ہوئے خود کو  پارٹی قیادت کے سامنے پیش کرنے کا اعلان کردیا اور پرویز خٹک کو چیلنج کیا ہے کہ وہ الزام ثابت کر کے دکھائیں۔

پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رکن صوبائی اسمبلی خیبرپختونخواہ کا کہنا تھا کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ پارٹی کی جانب سے آپ پر کوئی الزام نہیں مگر وزیراعلیٰ نے اپنے اور دیگر لوگوں کو بچانے کے لیے مجھ پر ووٹ فروخت کرنے کا الزام عائد کیا۔

تحریکِ انصاف کی رکن صوبائی اسمبلی  کا کہنا تھا کہ سینیٹ الیکشن کے بعد سے پارٹی کا ایک گروپ میرے خلاف سازشوں میں مصروف ہے،  مجھ پر  ووٹ فروخت کرنے کا الزام عائد کیا گیا اور سوشل میڈیا پر   بھی میری کردار کشی  کی گئی۔

وزیر اعلی پرویز خٹک اپنے گروپ کے بعض وزراء اور ممبران کو بچانے کے لئے مجھ پر الزام عائد کیا

فوزیہ بی بی رکن صوبائی اسمبلی

ان کا کہنا تھا کہ کردار کشی کرنے والوں کو قانونی نوٹس ارسال کردیا اور  الیکشن کمیشن میں ووٹ کی تصدیق کے حوالے سے  درخواست دائر کردی تاکہ میرے اوپر عائد ہونے والے الزام کی تصدیق ہو اور میری بے گناہی پر  ثابت ہوجائے۔

 ان کا کہنا تھا کہ جب میرے اوپر الزام عائد ہوا تو میں نے اپنی  لیڈرشپ کو صفائی پیش کی، جس پر  مجھے یقین دہانی کرائی گئی کہ پارٹی کی جانب سے کسی پر بھی ووٹ فروخت کرنے کا الزام نہیں مگر کل میڈیا کی توسط سے علم ہوا کہ میرا نام بھی ووٹ فروخت کرنے  والے اراکین کی فہرست میں شامل کیا گیا۔

فوزیہ بی بی کا کہنا تھا کہ ‘وزیر اعلی پرویز خٹک اپنے گروپ کے بعض وزراء اور ممبران کو بچانے کے لئے مجھ پر الزام عائد کیا جس کی وجہ سے میرا سیاسی کیرئیر اور خاندان کی عزت دونوں داؤ پر لگ چکی، میں وزیراعلیٰ کو چلینج کرتی ہوں کہ الزام ثابت کریں‘۔

خاتون ممبر صوبائی اسمبلی کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے حقیقت سمجھنے کے باوجود مجھ پر الزام عائد کیا جبکہ پارٹی چیئرمین نے ہر فورم پر میری کارکردگی کی تعریف کی اور مجھے امید ہے کہ وہ میری پانچ سالہ کارکردگی کو مد نظر رکھتے ہوئے صفائی کا موقع فراہم کریں گے اور میں انہیں تمام تر حقیقت سے آگاہ کروں گی۔

فوزیہ بی بی نے عمران خان سے اپیل کی کہ وہ ٹریڈنگ کیس کو نیب بھجوائیں تاکہ معاملے کی حقیقت سامنے آئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ میں پارٹی کی جانب سے ملنے والے شوکاز نوٹس کا جواب ضرور دوں گی کیونکہ پارٹی عہدیداران کی جانب سے فہرست مرتب کرتے وقت بڑی غلطی ہوئی اور  رہنماؤں نے کارکنان سمیت کسی کو اعتماد میں بھی نہیں لیا۔

خاتون رکن اسمبلی نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ کرپشن کے خلاف جنگ میں عمران خان کے ساتھ ہوں اور آئندہ بھی رہوں گی۔

یاد رہے کہ بی بی فوزیہ 2013 کے انتخابات میں خواتین کی مخصوص نشست پر چترال سے منتخب ہوئی تھیں۔ وہ خیبر پختونخواہ حکومت میں پارلیمانی سیکرٹری برائے سیاحت کے عہدے پر بھی فائز ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں