The news is by your side.

Advertisement

جوبائیڈن امریکا کے 46ویں آئینی صدر بن گئے

واشنگٹن: ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپٹل ہل پر حملے بے سود ثابت ہوئے، امریکی کانگریس نے جوبائیڈن کے “صدر ” بننے کی توثیق کردی ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق دارالحکومت واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کے دھاوے اور چند گھنٹوں تک ہنگامہ آرائی اور افراتفری کی صورتحال کے بعد پولیس نے کیپٹل ہل کی عمارت اور اردگرد صورتحال کو قابو کیا اور کانگریس کا جو بائیڈن کی الیکشن میں فتح کی توثیق کے عمل کے لیے کانگریس کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا، امریکی سینیٹ اور ایوان نمائندگان کا مشترکہ اجلاس رات بھر جاری رہا۔امریکی میڈیا کے مطابق امریکی کانگریس نے جوبائیڈن کےصدر اور کاملا ہیرس امریکا کی نائب صدر بننے کی توثیق کردی، جس کے بعد جوبائیڈن آئینی طور پر امریکا کے 46ویں صدر بن گئے، امریکی کانگریس کے مطابق جوبائیڈن اور کاملا ہیرس 20جنوری کو حلف اٹھائیں گے۔

امریکی الیکٹورل کالج نے جوبائیڈن کی کامیابی کی تصدیق کردی

پندرہ دسمبر کو امریکہ میں الیکٹورل کالج کی سرکاری ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد جوبائیڈن کو باضابطہ طور پر فاتح قرار دے دیا گیا تھا جبکہ ٹرمپ نے ایک بار پھر جوبائیڈن کو صدر ماننے سے انکار کیا تھا، جو بائیڈن نے 306 جبکہ صدر ٹرمپ نے 232 الیکٹورل ووٹ حاصل کئے تھے۔

ٹرمپ کے حامیوں کی کانگریس پر چڑھائی، واشنگٹن میں کرفیو نافذ

اس سے قبل امریکی صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے بائیڈن کے جیت کا اعلان روکنے کیلئے کانگریس پر حملے کے بعد ٹرمپ کے نائب مشیر قومی سلامتی نے استعفیٰ دے دیا تھا۔

دوسری جانب امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے ساتھ امریکی اسٹیبلشمنٹ نے تمام رابطے منقطع کردیئے، مائیک پنس کو 14 روز کیلئے صدر کی ذمہ داریاں سونپنے کیلئے صلاح مشورے کر رہے ہیں۔

بائیڈن کی جیت کا اعلان روکنے کےلیے ٹرمپ کے ہزاروں حامی گزشتہ روز سے واشنگٹن میں موجود تھے، کئی مسلح مظاہرین دھاوا بول کر کانگریس کی عمارت گھس گئے، مظاہرین کی جانب سے کانگریس کی کھڑکیاں اور دروازے توڑے گئے اور آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی گئی، اراکین کانگرنس نے ہال میں لیٹ کر مظاہرین کے حملے سے جان بچائی جبکہ ارکان کانگریس کو کیپٹل ہل میں گیس ماسک فراہم کئے گئے۔

نومنتخب صدر جوبائیڈن کا ٹوئٹ

واشنگٹن میں کشیدہ حالات پر جوبائیڈن نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ سیاست کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے، آج کے واقعے سے دھچکا لگا، انہوں نے ٹرمپ کو یاد دلایا کہ حلف کی پاسداری کرتے ہوئے آئین کا دفاع کریں کیونکہ کیپٹل ہل میں جو ہورہا ہے وہ احتجاج نہیں پرتشدد بغاوت ہے اور اس وقت امریکی جمہوریت حملے کی زد میں ہے۔

واشنگٹن میں حالات کشیدہ، پر تشدد واقعات میں 4 ہلاکتیں

گذشتہ روز سے جاری امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کے دھاوے اور ہنگامہ آرائی کے بعد پرتشدد واقعات میں چار افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک خاتون بھی شامل ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق پرتشدد مظاہرے کے دوران چار افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ پولیس نے 52 افراد کو گرفتار کرلیا ہے، پرتشدد مظاہروں کے بعد وائٹ ہاؤس کی سوشل سیکریٹری مستعفی ہوگئے ہیں، اس کے علاوہ واشنگٹن ڈی سی میں ایمرجنسی میں 15 روز کی توسیع کردی گئی ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق مظاہروں کے دوران میٹرو پولیٹن پولیس محکمے کے کم از کم 14 اہلکار بھی زخمی ہوئے، اس کے علاوہ پولیس نے دو پائپ بم بھی برآمد کئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں