The news is by your side.

Advertisement

جوبائیڈن کی نئی پالیسی، ولی عہد کے بجائے شاہ سلمان

امریکی صدر جوبائیڈن نے سعودی عرب سے تعلقات میں اہم فیصلہ کر لیا۔ جوبائیڈن صرف ‏سعودی شاہ سلمان سے ہی رابطہ کریں گے۔

یہ اعلان وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جین پساکی نے نیوز بریفنگ میں کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ‏ٹرمپ انتظامیہ کے اقتدار ختم ہونے پر سعودی عرب سے تعلقات اور سفارت کاری سے متعلق پیش ‏رفت ہوئی ہے۔

چین پساکی نے کہا کہ جوبائیڈن انتظامیہ کا یہ اقدام ہم منصب سے ہم منصب مصروفیات اور ‏رابطے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جوبائیڈن کے ہم منصب سعودی شاہ ہیں اور جب وقت آئے گا تو صدر صرف اپنے ‏ہم منصب سے ہی بات کریں گے لیکن میں رابطے کے حوالے سے فی الحال کوئی ٹائم لائن نہیں ‏دے سکتی۔

پریس سیکرٹری نے کہا کہ شروع سے ہی واضح کرچکے ہیں کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ اپنے ‏تعلقات کو دوبارہ قائم کرنے جا رہے ہیں۔

ٹرمپ کے دورے اقتدار میں صدر کے ساتھ ساتھ ٹرمپ کے داماد اور سینئر مشیر کے سعودی ولی ‏عہد محمد بن سلمان سے گہرے تعلقات تھے۔

واضح رہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کو سعودی عرب کا طاقتور ترین لیڈر کہا جاتا ہے کہ لیکن ‏حقیقی طور پر سب سے زیادہ اختیارات 85 سالہ شاہ سلمان کے پاس ہی ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں