اینگری ینگ مین’ امیتابھ‘ آج 76 ویں سالگرہ منارہے ہیں -
The news is by your side.

Advertisement

اینگری ینگ مین’ امیتابھ‘ آج 76 ویں سالگرہ منارہے ہیں

 بالی ووڈ کے سدابہار سپراسٹارامیتابھ بچن آج اپنی 76 ویں سالگرہ منارہے ہیں، سو سے زائد فلموں میں اداکاری کے جلوے دکھانے والے امیتابھ آج بھی مداحوں کے دلوں پر راج کررہے ہیں۔

بھارتی فلمی دنیا کے سپراسٹارامیتابھ بچن گیارہ اکتوبر انیس بیالیس میں بھارت کی ریاست اترپردیش میں پیدا ہوئے،انہوں نے فلمی کیریئر کا آغاز سن انیس سو انہتر میں فلم سات ہندوستانی سے کیا، جس میں انہیں پہلے نیشنل ایوارڈ سے نوازا گیا۔

اس کے بعد انہوں نے کئی کامیاب فلموں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا کر مداحوں کے دل جیت لئے، امیتابھ بچن نے اپنے چالیس سالہ فلمی کیریئر کے دوران بارہ فلم فیئر ایوارڈز حاصل کئے۔ بھارتی فلم انڈسٹری میں اب تک بہترین اداکار کے طور پر سب سے زیادہ ایوارڈز حاصل کرنے کا اعزاز اس سپر اسٹار کو ہی حاصل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں کئی نیشنل ،معاون اور دیگر ایوارڈز بھی حاصل کئے۔

امیتابھ بچن نے اداکاری کے علاوہ بطور پروڈیوسر ،ٹی وی کمپیئر،پلے بیک سنگر بھی اپنے جوہر منوائے ، ساتھ ہی ساتھ انڈین پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے ہیں۔ ان کی مشہور فلموں میں شعلے، شہنشاہ ،لاوارث،کولی ،اگنی پتھ، خدا گواہ ،ہم ،انسانیت ،کبھی خوشی کبھی غم،محبتیں، سرکار راج شامل ہیں۔

امیتابھ کے پاس دوہرے ایم – اے (ماسٹرز آف آرٹس) کی سند ہے۔ انہوں نے الہٰ باد میں جنانا پرابودہینی اوربوائز ہائی اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، اس کے بعد نینی تال شیروڈ کالج گئے جہاں انہوں نے علم فنون کے شعبے کو اختیار کیا۔ یہاں سے وہ جامعہ دہلی کے کروری مال کالج گئے اور سائنس کی سند حاصل کی۔ انہوں نے بیس سال کی عمر میں کلکتہ کی کمپنی کی نوکری چھوڑ دی تاکہ اداکاری کے سفر کو آگے بڑھا سکیں ۔

امیتابھ کی اداکاری کا سفر 1969ء میں فلم سات ہندوستانی سے ہوا، جس کے ہدایت کار خواجہ احمد عباس اورساتھی اداکاروں میں اتپل دت، مدھو اور جلال آغا شامل تھے۔ گو کے فلم باکس آفس پر اچھی کارکردگی نہ دکھا سکی مگر بچن کو بہترین نوارد اداکار کا پہلا نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔

سنہ 1973ء میں بچن ترقی کی نئی راہوں پر گامزن ہو گئے جب ہدایت کار پرکاش مہرا نے انہیں فلم زنجیر میں انسپیکٹر وجے کھنا کے کردار میں پیش کیا۔ اس فلم میں بچن کی اداکاری ان کے دیگر رومانوی کرداروں سے مختلف تھی اور یہاں سے بچن کو بالی وڈ کے اینگری ینگ مین کی پہچان ملی۔ اس فلم کے لیے ان کو فلم فیئر نیشنل ایوارڈ برائے بہترین اداکار ملا۔

اسی سال امیتابھ اور جیا بہادری کی شادی بھی ہوئی اور وہ ایک ساتھ کئی فلموں میں آئے، زنجیر کے علاوہ ان دونوں کی ایک اور فلم ابھیمان شادی کے ایک مہینہ بعد پردے پر لگی۔ فلم نمک حرام میں امیتابھ وکرم کے کردار میں نظر آئے، ہدایتکار ہراکاش مکھرجی اور قلم کار بریش چیٹرجی کی لکھی اس فلم میں دوستی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا ہے۔ راجیش کھنّا اور ریکھا کے مدمقابل ان کے کردار کو بہت سراہا گیا اور اس کردار کے لیے فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین معاون اداکار سے نوازا گیا۔

شعلے کی کامیابی کے بعد بچن بالی وڈ کی بلندیوں کو چھونے لگے اور 1976ء سے 1984ء کے درمیان میں انہیں کئی فلم فیئر ایوارڈ اور نامزدگیاں ملیں، گو کہ فلم شعلے میں ان کا کردار ماردھاڑ سے بھرا ہوا تھا مگر انہیں نے ہر قسم کے کردار میں خود کو انتہائی خوبی سے نبھا کر اپنا لوہا منوایا۔

1982ء میں فلم قلی کی فلم بندی کے دوران میں ایک لڑائی کا منظر کرتے ہوئے میز کا کونا لگنے سے امیتابھ شدید زخمی ہو گئے۔اس منظر میں امیتابھ کو میز پر گرنا تھا مگر اندازہ کی غلطی سے میز کا کونا ان کے پیٹ میں لگا اور اس کے نتیجہ میں ان کی تلی پھٹ گئی اور کافی خون ضائع ہو گیا۔ ان کو فوراً ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ کئی مہینے زندگی اور موت کی جنگ لڑتے رہے۔

اس دوران میں ان کے مداحوں نے مندروں میں دعائیں کیں اور چڑھاوے پیش کیے، صحت بہتر ہونے کے بعد ان کے مداح ہزاروں کی تعداد میں ہسپتال کے باہر جمع ہو گئے۔ بالآخر کئی ماہ کے علاج کے بعد فلم دوبارہ شروع ہوئی اور 1983ء میں سنیما گھروں میں لگی اور امیتابھ کے حادثہ سے مشہوری کی وجہ سے باکس آفس پر کامیاب ہوئی۔

سنہ 1984ء میں فلم لائن کو خیرآباد کرنے کے بعد امیتابھ نے سیاست میں قدم رکھا اور اپنے خاندانی دوست راجیو گاندھی کی حمایت میں الہ باد کی لوک سبھا سے سابق وزیر اعلٰی اترپردیش ایچ این بہوگونا کے مقابل کھڑے ہوئے اور عام انتخابات کی تاریخ کے سب سے بڑے فرق (68۔ 2 فیصد ووٹ)سے جیت حاصل کی۔

ان کا سیاسی سفر بہت کم عرصے پر محیط تھا اور تین سال کے بعد ہی انہوں نے سیاست کو بھی خیر آباد کر دیا۔ اس کے فوراًبعد امیتابھ اور ان کے بھائی پر ایک اخبار نے بوفور گھوٹالہ سے وابستگی کا الزام لگایا جسے وہ عدالت میں لے گئے جہاں وہ بےقصور ثابت ہوئے۔

ان کا فلمی سفر آج بھی جاری ہے اور جلد ہی وہ فلم ’ٹھگ آف ہندوستان‘ میں بالی وڈ میں مسٹرپرفیکٹ کے نام سے پہچانے جانے والے عامر خان کے ساتھ ایک منفرد رول میں جلوہ گر ہورہے ہیں، امید کی جارہی ہے کہ یہ فلم باکس آفس پر جھنڈے گاڑ دے گی لیکن ہالی وڈ فلم پائریٹس آف دی کیریبین کا چربہ ہونے کے سبب ناقدین سے پذیرائی حاصل نہیں کرسکے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں