The news is by your side.

ممبئی : پنجاب نیشنل بینک کی ایک برانچ میں 1.77 بلین ڈالرز کا غبن

ممبئی : نیم سرکاری ادارے نیشنل پنجاب بینک کی ایک برانچ میں دھوکہ دہی کے ذریعے غیر مجازی طور پر سرکاری کھاتوں سے اربوں ڈالرز کی ٹرانزیکشن کی گئی ہے اور اب تک ذمہ دار کا تعین بھی نہیں کیا جا سکا ہے.

تفصیلات کے مطابق بھارت میں وفاق کے زیر انتظام چلنے والے پنجاب نیشنل بینک کی ایک برانچ میں دھوکہ دہی کے ذریعے آٹھ مرتبہ مجموعی طور پر 1.77 بلین ڈالرز کی غیر مجازی ٹرانزیکشن کی گئی ہے جب کہ پنجاب نیشنل بینک کا سالانہ منافع محض ایک کروڑ بتیس لاکھ اور چالیس ہزار کے لگ بھگ ہے۔

بین الااقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق External Commercial Borrowings کو موصول ہونےوالی معلومات کے تحت پنجاب نیشنل بینک کی ایک برانچ میں غیرمجازی طور لین دین کی گئی ہے جس کا مقصد کچھ منتخب کھاتہ داروں کو فائدہ پہنچانا تھا تاہم اب تک پنجاب نیشنل بینک نے دھوکہ دہی کے مرتکب کسی شخص یا کمپنی کی نشاندہی نہیں کی ہے.

دوسری جانب پنجاب نیشنل بینک کے ترجمان نے دعوی کیا ہے کہ دھوکہ دہی کے واقعے سے متعلق مالیاتی معاملات کی تحقیقات کرنے والی وفاقی اور صوبائی ایجنسیوں کو مطلع کیا چکا ہے جو بینک ریکارڈ کی جانچ پڑتال میں مصروف ہیں اور جلد ذمہ دار افراد یا کمپنی کاتعین کرنے میں کامیاب ہو جائیں گی۔

خیال رہے کہ یہ مالی گھپلہ پنجاب نیشنل بینک کے سال 2017 کی خالص آمدنی سے آٹھ گُنا زیادہ ہے جب کہ اس فراڈ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے پنجاب نیشنل بینک کے شیئر ز میں مندی کا رجحان دیکھا گیا ہے اور اب یہ بینک سب سے کم قیمت پر کاروبار کر رہا ہے جس سے بحرانی کیفیت کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں