ملتان : 19مارچ 2006 کو ہونے والی ملتان کی تاریخ کی بڑی ڈکیتی میں 5 کروڑ روپے لوٹ لیے گئے، بورے والا ضلع وہاڑی ملتان میں بینک ڈکیتی یہ واردات پولیس کیلیے معمہ بنی رہی۔
پولیس کے مطابق 19 اور 20 مارچ کی درمیانی شب ہونے والی بینک ڈکیتی کی اس بڑی واردات میں کوئی اور نہیں بینک کا سیکیورٹی گارڈ ملوث تھا۔
رات کی ڈیوٹی پر مامور سیکیورٹی گارڈ واردات کی تیاری کیلیے اپنے ساتھیوں کا بے چینی سے انتظار کرتا رہا اور اپنے ساتھیوں کو جلدی آنے کیلیے کال بھی کی۔
کچھ ہی دیر بعد ایک سفید کار بینک کے پاس آکر رکی اور اس میں موجود ملزمان ویلڈنگ مشین، گیس کٹر اور دیگر ضروری سامان ساتھ لے بینک کے اندر داخل ہوگئے۔
ملزمان نے منظم انداز سے بینک کے اسٹرانگ روم کو الیکٹرک کٹر سے کاٹنے کی کوشش کی پھر ناکامی پر مختلف اوزار اور مشینیں استعمال کی اور آخر کار دروازہ کھل گیا اور ملزمان اندر داخل ہوگئے۔
اس کے بعد مرکزی تجوری جس میں بھاری رقم موجود تھی اسے توڑنے کی کوشش شروع کردی گئی، ملزمان نے تجوری کے دروازے کو ویلڈنگ مشین سے کاٹ دیا اور ساری رقم تھیلوں میں بھر کر گاڑی میں بیٹھ کر فرارہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق ملزمان نے 5 کروڑ روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی سمیت زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء لوٹین اور باآسانی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
پولیس حکام کے مطابق سب سے بڑی غفلت خود بینک انتطامیہ کی ہے جس نے سیکیورٹی الارم لگوانے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی اگر الارم نصب ہوتے تو اسٹرانگ روم توڑنے کی کوشش ہی ناکام ہوجاتی۔
اس حوالے سے ڈی آئی جی آر پی او محمد اعظم جوئیہ کا کہنا تھا کہ اتنی بڑی واردات کرکے فرارہونے والے ملزمان جس میں سیکیورٹی گارڈ خود ملوث تھا لیکن سیکیورٹی ایجنسی اور بینک انتظامیہ کے پاس اس کے کوائف اور تصویر تک موجود نہیں تھی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


