امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی فیڈرل ریزرو کے نئے چیئرمین کے اعلان کے بعد سونے اور چاندی کی قیمتوں میں تاریخ کی سب سے بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ۔
تفصیلات کے مطابق عالمی مارکیٹ میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی، اس طوفانی گراوٹ سے سونے اور چاندی کی مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری تقریباً $7.4 ٹریلین ختم ہوگئی۔
سونے کی قیمت میں 12.2 فیصد کمی ہوئی اور $4,708 پر آگئی ، جبکہ چاندی کی قیمت میں 32 فیصد کمی ہوئی اور یہ $77 پر آگئی۔
اس دوران تیل کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھنے کو ملا، جس کی وجہ ایران کے حوالے سے پیدا ہونے والے خدشات ہیں۔
اس ہفتے کے آغاز میں سونے کی قیمت ایک ریکارڈ سطح $5,594.82 امریکی ڈالر تک پہنچ چکی تھی، جبکہ چاندی کا ریکارڈ $120.44 فی اونس تک گیا۔
ٹریڈنگ گروپ کی ریسرچ ڈائریکٹر کیتھلین بروکس نے اے یف پی سے گفتگو میں بتایا "یہ بے قابو بلندی ختم ہونا ضروری تھی، کیونکہ قیمتیں بہت تیز رفتاری سے بڑھ گئی تھیں۔”
امریکی فیڈرل ریزرو کی بدھ کی غیر متوقع پالیسی بیان نے خریداری کی حوصلہ افزائی نہیں کی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار توقع کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کی جانب سے نئے فیڈ چیئر کے تقرر کے بعد شرح سود میں کمی ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب کریپٹو کرنسی بٹ کوائن نے بھی رات کے دوران 5.42 فیصد کی کمی دیکھی، جس کے نتیجے میں پچھلے 12 مہینوں میں اس کی قیمت تقریباً 27 فیصد گر گئی ہے۔
خیال رہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو سابق فیڈرل ریزرو گورنر کیون وارش کو امریکی مرکزی بینک کے سربراہ کے طور پر منتخب کرلیا ہے، موجودہ چیئر جروم پاول کا ٹرم 15 مئی کو ختم ہو رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کمی مارکیٹ کا "ری سیٹ” ہے، جس نے زیادہ لیوریج اور حد سے زیادہ خریداری کو صاف کیا اور مارکیٹ کو معتدل کیا۔ تاہم، مستقبل میں قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


