The news is by your side.

Advertisement

بلیک ہول کی وجہ سے خلا میں تاریخ کا دوسرا بڑا دھماکا، ویڈیو دیکھیں

نیویارک:ماہرینِ فلکیات نے دعویٰ کیا ہے کہ بلیک ہول کی وجہ سے خلا میں بگ بینگ کے بعد دوسرا بڑا دھماکا ہوا ہے۔

ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین سے 39 کروڑ سال کی مسافت پر واقع کہکشاؤں کے جھرمٹ میں بلیک ہول کی وجہ سے جمعرات کے روز زور دار  دھماکا ہوا۔

ماہرین کے مطابق یہ دھماکا اس قدر زور دار تھا کہ اس میں ہماری جیسی 15 کہکشاں آرام سے سما سکتی ہیں۔

امریکی دارالحکومت میں قائم ناول ریسرچ لیبارٹری سے وابستہ ماہر فلکیات سیمونا گیاکنتکی کا کہنا تھا کہ ’یہ دھماکا اتنا بڑا تھا کہ اس سے پیدا ہونے والے گرم گیس کے غبارے میں ہماری کہکشاؤں جیسی 15 کہکشائیں آسکتی ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک خلا میں ریکارڈ ہونے والے ھماکوں سے یہ پانچ گنا بڑا تھا۔

ماہرینِ فلکیات نے دھماکے کے مشاہدے کے لیے ناسا کی چندرا ایکسرے رصدگاہ کو استعمال کیا، جب کہ یورپی خلائی رصد گاہ اور متعدد دیگر زمینی دوربینوں کو بھی استعمال کیا گیا۔

سائنس دانوں کے مطابق ’یہ دھماکا ہزاروں کہکشاؤں کے جھرمٹ میں موجود اوفیوکس کے مرکز میں بلیک ہول کی وجہ سے ہی ہوا‘۔

ماہرین فلکیات بتاتے ہیں کہ بلیک ہول صرف مادے کو اپنی طرف نہیں کھینچتا بلکہ یہ جیٹ کی صورت میں مادے اور توانائی کا اخراج بھی کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دھماکے کا پہلا اشارہ چار سال قبل ملا تھا۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس دھماکے کے بعد اب بلیک ہول ایک بار پھر خاموش ہو چکا کیونکہ اب اس میں سے مزید جیٹ شعاعیں باہر کی طرف اخراج نہیں کررہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں