The news is by your side.

Advertisement

سینیٹ الیکشن: بلاول کا صدارتی آرڈیننس چیلنج کرنے کا اعلان

کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ پر کرانے کے لیے صدارتی آرڈیننس چیلنج کرنے کا اعلان کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق آج کراچی میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے نیوز کانفرنس میں اعلان کیا کہ اوپن بیلٹ کے حوالے سے لائے جانے والے صدارتی آرڈیننس کو متعلقہ فورم پر چیلنج کریں گے۔

بلاول نے امید ظاہر کی کہ اعلیٰ عدلیہ بھی اوپن بیلٹ پر حکومتی درخواست کو مسترد کر دےگی، اور اوپن بیلٹ کی اجازت نہیں دےگی، ووٹ کے حق کے ساتھ ہر شخص کو خفیہ ووٹ کا حق حاصل ہے، وہ جس کو چاہے اپنا ووٹ کاسٹ کرے۔

انھوں نے کہا حکومت نے غلط قدم اٹھایا، امید ہے کہ حکومتی سہولت کار بھی اسے سمجھیں گے، یہ ایک غلط روایت رکھی جا رہی ہے جس سے مستقبل میں ملک کو نقصان ہوگا، امید ہے آئین اور قانون کے مطا بق فیصلے کیے جائیں گے۔

پی پی چیئرمین کا کہنا تھا ارکان پارلیمنٹ کے خفیہ بیلٹ کے حق پر حملہ کیا جا رہا ہے، ہم الیکٹورل ریفارمز کے حامی ہیں لیکن موجودہ حکومت اس پر یقین نہیں رکھتی، حکومت شفاف الیکشن نہیں چاہتی اس لیے آرڈیننس لائی، ریفارمز کے لیے موجودہ حکومت کے پاس ڈھائی سال کا وقت تھا، لیکن حکومت کی نیت ہی خراب تھی اس لیے آرڈیننس لے کر آئی۔

بلاول نے کہا حکومت پہلے سمجھ رہی تھی کہ انھیں سینیٹ میں فری ہینڈ ملے گا لیکن جب اپوزیشن نے سینیٹ انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا تو حکومت پریشان ہوگئی، حکومت کو اپنے ارکان پارلیمنٹ پر اعتماد ہی نہیں اس لیے اسمبلی میں بل لے آئی، حکومت کو اوپن بیلٹ کے لیے آئین میں ترمیم کرنی ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ نیب حکومتی اتحادیوں کے خلاف بھی بلیک میلنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے لیکن حکومت کو بتانا چاہتا ہوں آپ کے ممبران آپ کے خلاف اوپن ووٹ دینے کو تیار ہیں، اوپن بیلٹ میں ہم خفیہ بیلٹ سے بھی زیادہ ووٹ حاصل کریں گے، کیوں خہ حکومتی ایم پی ایز اور ایم این ایز ناراض ہیں، ہمیں نہیں اس سے حکومت کو نقصان ہوگا۔

بلاول نے مزید کہا میاں رضا ربانی ترمیم پر سپریم کورٹ میں زیر سماعت درخواست پر پیپلز پارٹی کا مؤقف پیش کریں گے۔

انھوں نے ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کے حوالے سے کہا کہ ہمارا تو مقصد یہی ہے کہ فوج کا سیاست میں کوئی رول نہیں ہونا چاہیے، ڈی جی کے بیان سے متفق ہوں، ہمارا مطالبہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سیاست میں حصہ نہ ڈالے، ان کا کوئی سیاسی ونگ ہے تو فوری بند کر دینا چاہیے، خدانخواستہ ادارے سینیٹ الیکشن میں بھی متنازع ہوں گے تو اداروں کے لیے اچھا نہیں۔

پی پی چیئرمین نے کہا کوئی شخص ووٹ بیچتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، ووٹ بیچنے والوں کو قانون کے مطابق پارٹی سے نکالنا چاہیے، ہم بھی الیکٹورل ریفارمز چاہتے ہیں لیکن آئینی طریقہ کار اپنانا چاہیے، اور آئین میں ترمیم کے لئیح کومت کے پاس اکثریت ہی نہیں ہے، مانتاہوں کچھ گندے انڈے ہوں گے جنھوں نے ماضی میں ووٹ بیچے ہوں گے لیکن ہر ایم پی ایے یا ایم این ایے کے لیے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ بکتے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں