دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری -
The news is by your side.

Advertisement

دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری

اسلام آباد : پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ الیکشن میں دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی بنانے کے اپوزیشن کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، ایوان میں دو جماعتوں نے احتجاج کیا جو قابل افسوس ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلی بار خطاب کرتے ہوئے کیا، بلاول بھٹو نے کہا کہ عمران خان کو منتخب وزیراعظم بننے پر مبارکباد دیتا ہوں اور بتانا چاہتا ہوں کہ آپ مخصوص جماعت کے نہیں پورے پاکستان کے وزیر اعظم ہیں۔

عمران خان نے جنہیں گدھے، بھیڑ بکریاں قرار دیا ان کے بھی وزیراعظم ہیں، عمران خان نے پارلیمان کو مضبوط کیا تو ہمیں اپنے ساتھ پائیں گے، اگر آپ نے ایوان کا تقدس پامال کیا تو انہیں سب سے پہلے ہمارا سامنا کرنا ہوگا ۔

انہوں  نے مزید کہا کہ الیکشن پر تحفظات کے باوجود جمہوری عمل میں حصہ لے رہے ہیں، الیکشن میں سب کو برابری کا موقع نہیں دیا گیا، مختلف پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز سے باہر نکالا گیا، نتائج کو روکا گیا۔

انہوں  نے واضح کیا کہ دھاندلی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی بنانے کے اپوزیشن کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں، دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمانی کمیٹی بناکر ایوان کو آگاہ کیا جائے، جمہوری عمل میں حصہ لینے پر اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اپوزیشن کے بغیر اسپیکر اور وزیراعظم کی کرسی نہ ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ آج میری قومی اسمبلی میں پہلی تقریر ہے جو میرے لیے باعث اعزاز اور چیلنج ہے، یہ ایوان تمام اداروں کی ماں ہے، اللہ کا شکر اداکرتا ہوں نہ اس نے مجھے مقدس ایوان کا ممبر بنایا ہے، یہ وہ ایوان ہے جس نے اپنے اندر اور باہر سے حملے برداشت کیے۔

اکرام اللہ گنڈاپور، ہارون بلور، سراج رئیسانی سمیت پشاور اور مستونگ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتاہوں انتخابات کے دوران ہونے والے دہشت گرد واقعات کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہیں۔

مجھے اس ایوان سے خطاب کرتے ہوئے فخر ہے کہ جس نے مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو منتخب کیا۔ آپ کو اسپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں، امید کرتا ہوں آپ اس ایوان کی حفاظت کریں گے۔

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ2018کےانتخابات سے بھی ہم نے کچھ نہیں سیکھا، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دو جماعتوں نے احتجاج کیا، یہ احتجاج قابل قبول نہیں تھا، احتجاج جمہوری حق ہے مگر جو تماشہ ہوا وہ درست نہیں، امید ہے آگے ایسا نہیں ہوگا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں