The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم کو ڈر ہے کہ کراچی سے اس کا صفایا نہ ہوجائے، بلاول بھٹو

کراچی: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جو کراچی کے مسائل کے حل کے لیے ایک ساتھ نہیں بیٹھ سکتے، وہ بھلا کراچی کے مسائل حل کیسے کریں گے، ایم کیو ایم کو ڈر ہے کہ اس کا صفایا نہ ہوجائے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی کے علاقے ایف سی ایریا ٹنکی گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کیا، بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ ہم بانی متحدہ کی سیاست کے پہلے دن سے مخالف ہیں، لوگ کہتے ہیں بانی متحدہ ایک برا کردار تھا ہم کہتے ہیں وہ سسٹم برا تھا جس نے اسے پیدا کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر وہ شخص غلط ہے جس نے بانی متحدہ کو چھوڑ دیا مگر سیاست وہی والی کررہے ہیں، جرائم پیشہ افراد کے خاتمے کے نام پر کراچی کے نوجوانوں کا استحصال نہیں کیا جاسکتا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے الزام تراشی کے بجائے کراچی میں امن کا بیڑہ اٹھایا ہے، کراچی میں آپریشن سے امن قائم ہوا تو اس کے کپتان سندھ کے وزیر اعلیٰ تھے، وہ الگ بات ہے جب امن قائم ہوگیا تو ہر کوئی اپنا جھنڈا لہرانے کی کوشش کررہا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ پیپلزپارٹی تھی جس نے بلا تفریق آپریشن کی کمانڈ کی، جب باقی لوگ دہشت گردوں کے سامنے سر جھکا رہے تھے تو پیپلزپارٹی ان کے سامنے ڈٹ گئی، آج کراچی آپ کے سامنے ہے، اب کراچی میں مستقل امن قائم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ کمیونٹی پولیس بحال کی جائے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں کراچی میں پیدا ہوا، پہلی سانس لی، ابتدائی تعلیم حاصل کی، کراچی اور بھٹو کا نسل نسل کا رشتہ ہے، پیپلزپارٹی کا راستہ روکنے کے لیے شہر قائد میں نسل پرستی کے بیج بوئے گئے، پاکستان پیپلزپارٹی کی حمایت کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں ایک لیڈر نفرت کے بیچ بونے کی کوشش کررہا ہے، یہ وہ شخص ہے جس نے کراچی والوں کو زندہ لاشیں کہا تھا، طالبان کے اس بچھڑے بھائی کو پر امن کراچی پسند نہیں آرہا، اصل میں عمران خان اور بانی متحدہ ایک دوسرے کا عکس ہیں، عمران خان بھی کراچی پر نظرے جمائے بیٹھے ہیں دونوں ہی عجیب بات کرتے ہیں ایک ہڑتال کرتا ہے تو دوسرا دھرنا دیتا ہے۔

چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ کوئی کچھ بھی کہے کراچی والے جانتے ہیں تاریخ دور میں نسل پرستی کے خلاف کوئی کھڑا تھا تو وہ پیپلزپارٹی تھی، کراچی میں ہزاروں جیالوں کو گھروں میں گھس کر گولیاں ماری گئیں۔ انہیں گھروں میں زنزدہ جلادیا گیا، مگر دیکھ لو ہم فنا نہیں ہوئے، آج تیسرے نسل کا بھٹو پھر آپ کے سامنے کھڑا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں 30، 35 سالوں میں جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے، ان سالوں میں آگ تھی، خون تھا، اور دہشت تھی، اب وہ وقت گزر گیا، اب آپ نے آگے کیا کرنا ہے، یہ ہی پیغام لے کر آپ کے پاس آگے کیا کرنا ہے، آپ کے پاس بہت سے آپشنز ہوسکتے ہیں، فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ کیسا کراچی چاہتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں