The news is by your side.

Advertisement

حکومت خود اپنے دارالحکومت کو لاک ڈاؤن کررہی ہے، بلاول بھٹو

اسلام آباد : چئیرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ حکومت خود اپنے دارالحکومت کولاک ڈاؤن کررہی ہے، وزیراعظم نےپہلی تقریرمیں کہاتھااپوزیشن احتجاج کرے دھرنا دے، کنٹینراور کھانادیں گے،انہیں اپنی بات پرقائم رہناچاہیے،ہربات پریوٹرن نہیں لیاجاسکتا۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے والد آصف زرداری سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ڈاکٹرز نے آصف زرداری کوطبی سہولتیں دینے کا کہا تھا، نیب میڈیکل،حکومتی میڈیکل بورڈ کی سفارشات موجود ہیں ، امید ہے آصف زرداری کو اسپتال لے جایا جائے گا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی قیادت کو دباؤ میں ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے، ہم کٹھ پتلی حکومت کے ظلم کا مقابلہ کرتے رہیں گی، 18 اکتوبر کو کراچی کے عوام نے پیغام دےدیا ہے، میں تھرپارکر میں جلسہ کررہا ہوں، وہاں سے بھی پیغام جائے گا۔

پیپلزپارٹی کی قیادت کو دباؤ میں ڈالنے کی کوشش ہورہی ہے

پی پی چیئرمین نے کہا عوام کو مہنگائی، ٹیکسز کے طوفان میں دھکیل دیا گیا ہے، پیپلزپارٹی واحد جماعت ہے جو مظلوموں کیساتھ کھڑی ہوتی ہے، کٹھ  پتلی حکومت گھر جائے گی اور عوام حکومت بنائی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ خان صاحب نے خود کہا تھا کنٹینر دوں گا کھانا بھی دوں گا، خان صاحب کو اپنی بات قائم رہنا چاہیے، ہربات پر یوٹرن نہیں لینا چاہیے، جمہوری سیاست کو ملک کو جگہ دینا پڑے گی ، پارلیمان میں تالا لگایا گیا ، الیکشن میں دھاندلی کی گئی۔

جمہوری سیاست کو ملک کو جگہ دینا پڑے گی

بلاول بھٹو نے کہا کہ سیاسی اورپرامن احتجاج ہم سب کا حق ہے ، حکومت کوجمہوری حق روکنے کے بجائے راستہ دیناچاہیے، پیپلزپارٹی اپنی بھرپور سپورٹ آزادی مارچ کو دےرہی ہے، کراچی سے کشمیر تک کا سفر جاری ہے، دو دن بعد تھرپارکرمیں جلسہ ہے، جلسوں کے تحت ہم حکومت پر دباؤ جاری رکھیں گے۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ جتنی بزدل یہ حکومت ہے اتنی کوئی اور حکومت نہیں رہی ، وزیراعظم کو ہر جلسے اور تقریر سے نہیں ڈرنا چاہیے، اسلام آباد  وفاق کا دارالحکومت ہے ، پرامن احتجاج کی اجازت ہونی چاہیے۔

جلسوں کے تحت ہم حکومت پر دباؤ جاری رکھیں گے

انھوں نے مزید کہا پیپلزپارٹی جمہوری اور پر امن کردار ادا کرتی رہے گی ، پارلیمان اور احتجاج سمیت ہر فورم پر حکومت کو بےنقاب کریں گے، ہم سب کا مطالبہ ہے نئے الیکشن ہونے چاہئیں، نئے الیکشن کیلئے الیکٹورل ریفارمز کرنا پڑیں گے ، اسی نظام کے تحت الیکشن ہوئے تو یہ پھر سلیکشن ہوگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں