ن لیگ نے نیشنل ایکشن پلان کو دفن کردیا، بلاول -
The news is by your side.

Advertisement

ن لیگ نے نیشنل ایکشن پلان کو دفن کردیا، بلاول

فتح جنگ: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ سازشی منصوبے کے تحت پیپلز پارٹی کو محدود کرنےکی کوشش کی گئی، ن لیگ نے نیشنل ایکشن پلان کو دفن کردیا، ان کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے فتح جنگ میں ایک بہت بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ پڑوسی ممالک سے متعلق بھی اچھی خبر نہیں آرہی، اب امریکا نے بھی آنکھیں دکھانی شروع کردی ہیں۔

ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ پاکستان نےخود کونہ بدلا تو وہ ہمیں بدل دیں گے، ملک دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے، دہشت گردی جنگ میں ہزاروں قربانیوں کےباوجود ہم پرالزام لگایا جارہا ہے، الزام تو پہلے بھی لگاتے تھے مگراب امریکا دھمکی دینے پر آگیا ہے۔

انہوں نے سوال کیا کہ پاکستان سفارتی سطح پر تنہا ہوچکا ہے، دنیا ہماری بات ماننے کو تیارنہیں، ہم پر کوئی اعتبارنہیں کررہا،اس کا ذمہ دار کون ہے؟

مخالفین دیکھ لیں پیپلزپارٹی وفاق کی جماعت ہے

انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر بیٹھ کر کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پی پی ایک صوبے میں سمٹ گئی ہے، میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ آنکھیں کھول کر دیکھیں، پیپلز پارٹی وفاق کی جماعت ہے، سازشی منصوبے کے تحت پیپلزپارٹی کو محدود کرنےکی کوشش کی گئی۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام جانتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ نوجوانوں کو روزگار فراہم کیا، وہ جانتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر چڑھایا گیا، شہید محترمہ بینظیربھٹو اورہزاروں کارکنوں کو قتل کیا گیا، مگر ہم نے عوام اور غریبوں کی سیاست نہیں چھوڑی، ہم نے کبھی کسی آمر کےسامنے سر جھکایا اور نہ ہی دہشت گردوں سے ڈرے۔

نواز لیگ کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ اچھی یا بری ہرحکومت کی ایک خارجہ پالیسی ہوتی ہے لیکن نواز لیگ کی کوئی خارجہ پالیسی نہیں ہے، میاں صاحب دنیا کے ساتھ چلنا پڑتا ہے، دنیا کو اپنے مسائل بتانے پڑتےہیں۔

نواز حکومت نے چارسال تک کوئی وزیر خارجہ نہیں بنایا، اب اگر وزیر خارجہ بنا ہی دیا گیا ہے تو وہ دوسرے ممالک میں جانے کی بجائے جی ٹی روڈ پرکھڑا ہوگیا، وزیرخارجہ جی ٹی روڈ پرکھڑے ہوکر پوچھ رہا ہے کہ میرے قائد کوکیوں نکالا گیا؟

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ن لیگ نے نیشنل ایکشن پلان کو دفن کردیا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر تمام جماعتیں متفق تھیں، پلان پر مکمل عمل نہیں کیا جارہا،۔

فوجی آپریشن ایک پوائنٹ تھا، اس سے دہشت گردی ختم نہیں ہوتی، فرقہ پسندی،دہشت گردی کیخلاف جنگ جیتنی ہے تو قوم کو ایک کرنا ہوگا۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں نام بدل بدل کر سیاسی جماعتیں بنالیں اور حکومت کی مدد کیلئے اسمبلی میں آکر بیٹھ جائیں، ایسا نہیں ہونا چاہئیے۔

خان صاحب کے تبدیلی کے دعوے سراسر جھوٹے ہیں

انہوں نے عمران خان کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کے پی کے کی حالت دیکھ کرآیا ہوں، وہاں جاکر پتا چلا کہ جھوٹ، جھوٹ اور سب جھوٹ ہے، خان صاحب کے تبدیلی کے دعوے سراسر جھوٹے ہیں، تبدیلی کے نعرے کی ضرورت پڑتی ہے تو خان صاحب پہاڑ پر چڑھ کر بیٹھ جاتے ہیں، پھراترتے ہی نہیں۔

کے پی کے کے لوگ ڈینگی میں مبتلاہو رہے ہیں اور خان صاحب جلسوں میں تقریریں فرما رہےہیں، عمران خان صاحب دہشت گردوں سے تو ڈرتے ہی ہیں کیا اب آپ نے مچھر سے بھی ڈرنا شروع کردیا ہے؟

کے پی کے حکومت ایک مدرسے کو کروڑوں روپے دے دیتی ہے، دنیا اندھی نہیں، وہ دیکھ رہی ہے کہ آپ کیا کررہے ہیں، آپ عوام سے جھوٹ بول سکتے ہیں مگر دنیا آپ کے دھوکے میں نہیں آئیگی۔

ملک نازک صورت حال سے گزر رہا ہے

انہوں نے کہا کہ اچھی طرح جانتا ہوں ملک نازک صورت حال سے گزر رہا ہے، اندرونی اور بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، ہماری تمام معاملات پر نظر ہے، ن لیگ عوام کو اصل صورتحال نہیں بتارہی، یہ صرف کرسی کیلئے لڑ رہے ہیں، الزامات کی سیاست ہورہی ہے۔

نوازشریف ہوں یا عمران خان ان میں ملکی مسائل حل کرنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ کیونکہ ن لیگ اور پی ٹی آئی کے پاس کوئی منشور نہیں، یہ دائیں بازو کی سیاست کرتے ہیں، یہ رائٹرز سیاست ہیں، غریب، کسان،مزدور، عوام ان کے ایجنڈے میں نہیں۔

ن لیگ اور پی ٹی آئی کا ایجنڈا ہے تووہ صرف اور صرف اقتدار میں رہنا ہے۔ یہ لوگ صرف اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار کیلئے سیاست کرتے ہیں۔

نااہل میاں صاحب آپ کی حکومت بھی ناکام ہے

سابق وزیر اعظم نوز شریف کے حوالے ان کا کہنا تھا کہ میاں صاحب کس بات کی ترقی کی بات کررہے ہیں، ملک میں صاف پانی کو لوگ ترس رہے ہیں، تمام حکومتوں نے اتنا قرض نہیں لیا جتنا ن لیگ نے چار سال میں لے لیا ہے۔

صنعتوں کا یہ حال ہے کہ ٹیکسٹائل انڈسٹریز بند ہوتی جارہی ہیں، تاجرپریشان ہیں، مزدور رات کو بھوکا سوتا ہے، بلاول بھٹو نے کہا کہ میاں صاحب کیا یہ ہے آپ کی ترقی؟ کیا آپ اسے ترقی کہتےہیں ؟ نااہل میاں صاحب آپ کی حکومت بھی ناکام ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عوام حالات سے مایوس نہ ہوں، پی پی پی کا جھنڈا اب میں نے اٹھا لیا ہے، ہم ان حالات سے گھبرانے والے نہیں، پیپلزپارٹی کو جب اقتدار ملا جب ملک دو ٹکڑے ہوچکا تھا،90ہزار فوجی بھارتی فوج کی قید میں تھے، پھر قوم نے دیکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بھارتی قید سے فوجی آزاد کرائے، اپنی سرزمین بھی واپس لے لی۔

ذوالفقار بھٹو نے ملک کو متفقہ آئین دیا، لوگوں کو روزگار دیا، کسانوں کو زمینوں کا مالک بنایا، سابق صدر آصف علی زرداری نے مشکل حالات میں پاکستان کھپے کانعرہ لگا کرعوامی اور جمہوری حکومت قائم کی، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ضرورت پڑنے پر ملک کیلئے جانوں کے نذرانے بھی پیش کرتی ہے۔

عوام میرا ساتھ دیں مایوس نہیں کروں گا

بلاول بھٹو نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں عوام کی حمایت اور طاقت پر یقین رکھتا ہوں، اگرعوام میرا ساتھ دیں تو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کروں گا، ملک کو آگے لے کرجاؤں گا۔

اقتدار میں آکر ہم ملک سے غربت کا خاتمہ کردیں گے، بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کو مزید وسیع کیا جائے گا، ہماری حکومت میں کسان کو فصل کی قیمت اور مزدور کو اس کا جائز حق دیا جائیگا، ہم مساوات پر مبنی معاشرہ قائم کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکی پالیسی ہو یا ٹرمپ کا بیان، آپ نے گھبرانا نہیں، پیپلزپارٹی آپ کے ساتھ ہے،جو دہشت گردوں کو للکارتی ہے، پیپلزپارٹی امریکا سے بھی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرتی ہے۔

پی پی نے سلالہ حملے کے بعد نیٹو سپلائی لائن، ائربیسز کو بند کردیا تھا، تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ امریکا نے کسی ملک سے معافی مانگی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں