site
stats
پاکستان

الیکشن 2018 میرا پہلا اور عمران خان کا آخری الیکشن ہو گا، بلاول بھٹو

چترال : چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ میاں صاحب اس آرٹیکل پر نااہل ہوئے جو آمر ضیاء الحق نے آئین میں 1973 میں شامل کئے اور میاں صاحب خوش نہ ہوں ابھی تو آپ صرف نااہل ہوئے ہیں لیکن آپ کی جان ابھی چھٹی نہیں ہے۔

وہ چترال میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ بی بی شہید کے جیالوں کو سلام ہے آج ان کے درمیان ہوں جنہوں نے ہمیشہ پیپلزپارٹی کا ساتھ دیا جہاں لوگوں نے ہمیشہ عزت دی گو آج پہلی مرتبہ چترال آیا ہوں لیکن یہ میرے لیے کوئی نیا علاقہ نہیں ہے یہاں خطاب کرکے بہت خوشی محسوس کررہا ہوں ہے۔

چترال میرا دوسرا گھر ہے 


بلاول بھٹو نے کہا کہ لاڑکانہ کے بعد چترال میرا دوسرا گھر ہے اور صرف میرا ہی نہیں شہید ذوالفقار بھٹو اور بینظیربھٹو شہید کا بھی گھر تھا یہی وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے بھی ہمیشہ چترال کو خصوصی اہمیت دی ہے اور پیپلزپارٹی کی حکومت نے ہمیشہ مسائل حل کرنے کی کوشش کی اورچترال جیسےخوبصورت علاقے کوترقی دی۔

شہید بھٹو نے چترال میں اَن گنت ترقیاتی کام کرائے 


انہوں نے کہا کہ شہید بھٹو نے چترال میں ڈگری اور کامرس کالج کی بنیاد رکھی تھی جب کہ شہید ذوالفقار بھٹو نے چترال چشمہ پاور پروجیکٹ شروع کرایا تھا اور شہید ذوالفقار بھٹو نے ہی پنجاب سے گندم خرید کر چترال پہنچائی اسی لیے آج بھی چترال میں گندم پرسبسڈی دی جاتی ہے اور بی بی و زرداری حکومت میں بھی چترال کو خصوصی اہمیت دینے کا سلسلہ جاری رکھا۔

نااہلی کے ساتھ نوازشریف کی منافق سیاست کا خاتمہ ہو گیا 


بلاول بھٹو نے کہا کہ گزشتہ دنوں نااہل وزیراعظم نے نامکمل لواری ٹنل کا افتتاح کیا تھا اور اپنے نام کی تختی لگائی جب کہ کام بی بی شہید کے دورمیں شروع ہوا تھا لیکن قدرت کا انصاف دیکھیں کہ تختیاں لگاتے لگاتے وہ خود اپنا تختہ الٹ کر چلے گئے اور نا اہلی کے ساتھ میاں صاحب کی منافق سیاست کا خاتمہ ہوگیا۔

آرٹیکل 63-62 کو آمر نے آئین میں شامل کیا 


چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ ہم نے ہرفورم پرکہا تھا آرٹیکل 62-63 کو ایک آمرنےغیرآئینی طورپرآئین میں شامل کیا ڈالے اسے ختم کرنا چاہیئے لیکن میاں صاحب نے بات نہیں مانی اور آرٹیکل کوبڑوں کی نشانی سمجھتے رہے کیوں کہ میاں صاحب اس آرٹیکل سے مخالفین کو نشانہ بنانا چاہتے تھے تاہم مسلم لیگ (ن) والے کہتے ہیں کہ غلطی ہوگئی ہے تو اب اس غلطی کو بھگتنا ہوگا۔

نوازشریف نے دھاندلی اور کرپشن کی سیاست کی 


انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے ہمیشہ دھاندلی کی سیاست کی ، کرپشن کوفروغ دیا اور اداروں کو کمزور کیا دراصل میاں صاحب نے سیاست نہیں کاروبارکیا ہے اور سیاست کو کاروبار کے بڑھوتے کے لیے استعمال کیا جس کے لیے کرپشن کو بہ طور ہتھیار استعمال کیا اورجھوٹے مقدمات سیاسی مخالفین پر لگائے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی دوسری جانب ایک طرف میاں صاحب تو دوسری طرف خان صاحب ہیں دونوں کا نظریہ ایک ہے اور دونوں اقتدار کے بھوکے ہیں میاں صاحب نےکاروباراورخان صاحب نےسیاست کوگالی بنا دیا ہے اور آپس میں بظاہر دست و گریباں نطر آنے والے یہ دونوں رہنما ایک ہی ایجنڈے پر کاربند ہیں۔

عمران خان بھی عوام کو دھوکا دے رہے ہیں 


انہوں نے عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ خان صاحب بھی عوام کو دھوکا دے رہے ہیں اور گمراہ کر رہے ہیں میں پوچھتا ہوں کہ کہاں ہے نیا خیبر پختونخواہ ؟ خان صاحب نے کیا نیا کردیا ہے؟ اور کون سا نیا کارنامہ انجام دیا ہے ؟ حال تو یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں آج بھی سرکاری اسکول خراب حالت میں ہیں اور نوجوان روزگار کے لیے بھٹک رہے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ کے پی کے وزیراعلیٰ پرکرپشن کے الزامات ہیں اور یہ الزامات میں نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے اپنے وزیر اور ایم این اے لگا رہے ہیں اور صاف کہہ رہے ہیں کہ کے پی کے میں ہونے والی کرپشن سے عمران خان کا کچن اور جہانگیرترین کا جہاز چل رہا ہے۔

انہوں ںے عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کہاں ہے آپ کا احتساب کمیشن جس کی بڑی باتیں کی جا رہی تھیں اور جس کے لیے آپ لوگوں نے 60 کروڑ خرچ کر دیئے لیکن کارکردگی صفر ہے اور محکمہ تعلیم کا یہ حال ہے کہ کے پی کے حکومت تعلیم کا صرف 45 فیصد بجٹ خرچ کرسکی ہے۔

الیکشن 2018 میرا پہلا الیکشن اور عمران خان کا آخری ہوگا 


بلاول بھٹو نے میاں نواز شریف اور عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ 2018 کا الیکشن میرا پہلا الیکشن ہو گا جب کہ آپ لوگوں کا یہ آخری الیکشن ہو گا اور پیپلز پارٹی اقتدار میں آنے کے بعد لوگوں کو روزگار، تعلیم، صحت اور بہتر معیار زندگی دے گی اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے ہر ضروری قدم اُٹھائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top