چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرکے وفاقی حکومت سے تحریری معاہدہ کرے۔
کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو نے کہا کہ کے پی اور بلوچستان میں دہشت گردی کا مقابلہ کیا جارہا ہے، دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جاتا تو اس کا اثر کراچی پر بھی پڑتا ہے، دہشت گردی کو قومی ایشو سمجھ کر اپوزیشن اور حکومت سب مل کر مقابلہ کریں، خیبرپختونخوا کو کوئی بیماری ہوگی تو کھانسی کراچی کو ہوگی، پی پی چاہتی ہے کہ دہشت گردی کا ہم سب مل کر مقابلہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایک دو ہفتے سے وفاقی حکومت صدر مملکت اور پی پی سے رابطے میں تھی، دہشت گردی کے واقعات کی وجہ سے ایسے حالات بن گئے تھے، دہشت گردی اور افغان سائیڈ سے حملوں کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اپنا ذہن بنالیا تھا کہ کے پی میں فوری ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا جائے یہ وہ ہتھیار ہے جسے ضرورت پڑنے پر استعمال کیا جاسکتا ہے لیکن پی پی کا خیال تھا کہ آئینی اٹامک بم کا استعمال کریں اس سے پہلے سیاسی حل نکالیں۔
چیئرمین پی پی نے کہا کہ پی ٹی آئی 10 دن سے اسلام آباد میں نہیں لیکن اسلام آباد تو بند پڑا ہے، ایک طرح سے آپ کا احتجاج تو کامیاب ہوگیا ہے، آپ سیاست پر توجہ دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف کے پی میں دہشت گردی ہورہی ہے، پی ٹی آئی اپنا لانگ مارچ ختم کرے وفاقی حکومت اور کے پی حکومت تحریری معاہدہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ سیاسی بحران اور سیاسی مسائل ہیں تو دہشت گردی کا مقابلہ اور قومی مفاد سے الگ رکھیں، تمام سیاسی جماعتیں اس وقت اسلام آباد میں بیٹھی ہیں اہم مذاکرات چل رہے ہیں، سیاسی حل پر پہنچنا ہی پاکستان کے مفاد میں ہے۔
بلاول نے کہا کہ اس قسم کا قدم نہ اٹھانا پڑے کہ ایمرجنسی کی صورت میں دہشتگردی کا مقابلہ کرنا پڑے، پی پی سمجھتی ہے دہشت گردی کا خاتمہ سب سے اہم ہے ، سیاسی استحکام آئے گا تو دہشت گردی کا مقابلہ بھی کریں گے اور عوامی مسائل کا بھی حل نکلے گا۔
کے فور منصوبے پر چیئرمین پی پی نے کہا کہ وفاق نے پھر اپنا وعدہ توڑا جس کے بعد اس منصوبے کو سندھ حکومت نے پی پی پی موڈ سے مکمل کیا، شہباز اسپیڈ اگر کہیں ضرورت ہے تو وہ کے فور منصوبہ ہے اور ہم ابھی تک انتظار کررہے ہیں۔


