The news is by your side.

Advertisement

میاں صاحب کی عیادت کے لیے آیا ہوں، میثاقِ جمہوریت پر بھی بات ہوئی: بلاول

لاہور: پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ میاں نواز شریف کی عیادت کے لیے کوٹ لکھپت جیل آیا تھا، سیاسی اختلافات ہوتے ہیں لیکن ہر انسان کی اقدار ہوتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج میں میاں نواز شریف کی عیادت کے لیے کوٹ لکھپت جیل آیا تھا، ملک سے باہر تھا اس لیے تاخیر سے میاں نواز شریف کے پاس آیا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور آصف زرداری نے بھی اسی جیل میں وقت گزارا تھا۔ پیپلز پارٹی قیادت اور کارکنوں نے بھی اسی جیل میں وقت گزارا۔ نواز شریف کی صحت سے متعلق اطلاعات مل رہی تھیں، سیاسی اختلافات ہوتے ہیں لیکن ہر انسان کی اقدار ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا دین بھی کہتا ہے کہ کوئی بیمار ہو تو اس کی عیادت کرنی چاہیئے، ایک عام قیدی کے ساتھ بھی اس قسم کی ناانصافی نہیں ہونی چاہیئے۔ کوئی بھی قیدی بیمار ہو تو حکمرانوں کی ذمہ داری ہے سہولت فراہم کرے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ دل کے مریض پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالنا چاہیئے وہ تشدد کے زمرے میں آتا ہے، میاں نواز شریف پاکستان کے 3 مرتبہ وزیر اعظم رہے ہیں۔ ہم جمہوریت اور انسانی حقوق کی بات کر رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی مطالبہ کرتی ہے میاں صاحب کو جو طبی سہولیات چاہیئں انہیں فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی کی غلطیوں سے سب سیکھتے ہیں، بے نظیر اور نواز شریف کے درمیان چارٹر آف ڈیمو کریسی میں فیصلہ کیا گیا یہ ملک صرف جمہوریت سے ہی چلے گا۔ ہماری ناکامی ہے کہ پوری چارٹر آف ڈیمو کریسی پر عمل نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم تمام سیاسی جماعتوں سے کہتے ہیں مل کر کمزوریوں پر بات کرنی چاہیئے۔ میاں صاحب سے دوسری باتیں بھی ہوئی، چارٹر آف ڈیمو کریسی سے متعلق بھی گفتگو ہوئی۔ میاں صاحب سمجھوتہ کرنے پر آمادہ نظر نہیں آتے۔

بلاول نے کہا کہ آصف زرداری نے ساڑھے 11 سال بغیر کسی وجہ کے جیل میں گزارے، ایک دن ایسا نہیں تھا جب ہم نے نہیں سنا کہ مشرف کے ساتھ ڈیل ہوگئی ہے۔ میرے خیال میں این آر او کی بات کرنے والے میاں صاحب کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پورا ملک متحد ہے اور عالمی سطح پر ایک اچھا پیغام جا رہا ہے، اپوزیشن بالکل حکومت سے تعاون کر رہی ہے اور ملک کے لیے کرتی رہے گی۔ میثاق جمہوریت پر عملدر آمد سے متعلق آگے بھی بہت کام ہوگا۔ شہباز شریف اور دیگر ن لیگی قیادت سے رابطہ ہوتا رہتا ہے۔

بلاول کا کہنا تھا کہ میرے نانا، میری والدہ اور خاندان کے دیگر افراد نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں، ملک میں رول آف لا ہوگا تو ناانصافی ایک عام آدمی کے ساتھ بھی نہیں ہوگی۔

خیال رہے کہ بلاول بھٹو نواز شریف کی عیادت کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچے تھے جہاں انہوں نے نواز شریف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں قمر زمان کائرہ، مصطفیٰ نواز کھوکھر اور حسن مرتضیٰ بھی موجود تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں