The news is by your side.

Advertisement

اسٹیبلشمنٹ سے غیر جانب داری کی امید رکھنا بری بات نہیں: بلاول بھٹو

حیدر آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی نیوٹرلٹی کی امید رکھنا کوئی بری بات نہیں، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں جائز ووٹوں کو مسترد کر کے شارٹ ٹائم کے لیے سنجرانی کو کرسی دلوائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری حیدر آباد میں سندھ لائیو اسٹاک ایکسپو کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے، انھوں نے کہا چیئرمین سینیٹ کے انتخاب میں پی ڈی ایم کو کامیابی ملی ہے، 49 ووٹ آپ کے ہیں تو جیت بھی آپ کی ہے، 48 والے ووٹ کی نہیں۔

بلاول نے کہا آپ نشان پر مہر لگاتے ہیں یا نام پر ووٹ جائز ہے، جائز ووٹ کو مسترد کر کے شارٹ ٹائم کے لیے کرسی سنجرانی کو دلوائی گئی، پریزائیڈنگ افسر نے جائز ووٹ مسترد کیا ہے، امید ہے عدالت انصاف کے ساتھ فیصلہ کرے گی۔

پی پی چیئرمین کا کہنا تھا اسٹیبلشمنٹ کی نیوٹرلٹی کی امید رکھنا کوئی بری بات نہیں، ہم چاہتے ہیں ہر ادارہ اپنے دائرے میں رہ کر کام کرے اور مداخلت نہ کرے، ہمیں نیوٹرلٹی حاصل کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا پڑے گی، کچھ سالوں میں اسٹیبلشمنٹ پر بہت تنقید ہوئی، ان کی مداخلت کے باوجود ضمنی اور سینیٹ الیکشن میں ہم جیتے، یہ شارٹ ٹائم نہیں لانگ ٹرم جدوجہد ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر الیکشن کا بائیکاٹ کرتے تو دھرنے میں بیٹھے ہوتے اور وزیر اعظم خوشیاں منا رہے ہوتے، پی ڈی ایم کے یہ اچھے فیصلے تھے کہ الیکشن میں حصہ لیا اور کامیابی ملی، جتنی شکست پی ڈی ایم نے حکومت کو دلوائی وہ پارلیمان میں رہ کر دلوائی ہے، اور اپر ہاؤس، لور ہاؤس میں حکومت کی اکثریت کا بھی پتا چل گیا، پنجاب میں بھی ان کی اکثریت کم ہو رہی ہے۔

پی پی چیئرمین نے کہا استعفوں کے معاملے پر آگے کا لائحہ عمل پی ڈی ایم طے کرے گی، استعفوں کو ایٹم بم کی طرح لاسٹ کارڈ کے طور پر استعمال کرنا چاہیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں