The news is by your side.

Advertisement

نیب میں پیشی کے دوران بلاول بھٹو سے کیا کیا سوال ہوئے؟ سنسنی خیز انکشافات

اسلام آباد : قومی احتساب بیورو میں میں پیشی کے موقع پر بلاول بھٹو سے کیا کیا سوالات ہوئے؟ اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں سنسنی خیز انکشاف سامنے آگئے۔

تفصیلات کے مطابق اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے مکے میزبان ارشد شریف نے انکشاف کیا ہے کہ جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں نیب کے روبرو پیشی کے دوران پی پی چیئرمین کے پارک لین کے شیئرہولڈر ہونے سے متعلق دعوے پر بھی سوال اٹھائے گئے۔

نیب کو بلاول بھٹو نے بتایا کہ پارک لین کمپنی بنی تو میں اس وقت ایک سال کا تھا۔ نیب افسران نے سوال کیا کہ سال دوہزار آٹھ میں آپ کمپنی کے مالک اور چیف ایگزیکٹو بن گئے تھے اور دوہزار گیارہ میں کمپنی کی رپورٹس بھی سائن کرتے رہے۔

؎نیب افسران نے پوچھا کہ جے آئی ٹی کے مطابق اکتیس اکتوبر دوہزار گیارہ کو آپ نے کمپنی کی بیلنس شیٹ پر دستخط کیسے کیے؟ اس وقت کی عمر بائیس سے تئیس سال تھی، جے آئی ٹی نے مراد علی شاہ اور اومنی کنکشن پر بھی انگلیاں اٹھائی ہیں۔

جے آئی ٹی کے مطابق سندھ حکومت نے جو بھی سبسڈی عوام کو دی اس کا زیادہ سے زیادہ فائدہ اومنی گروپ کو دیا گیا۔ سالانہ ٹریکٹر اسکیم کو دی گئی سبسڈی میں سے اکیاون فیصد اومنی گروپ کو دیا گیا۔

اس کے علاوہ گنا اگانے والے کسانوں کو دی گئی سبسڈی میں سے بائیس فیصد اومنی گروپ کو دیا گیا۔ پاور پلانٹ کو دی جانے سبسڈی کا بھی سڑسٹھ فیصد اومنی گروپ کے اکاؤنٹ میں ڈالا گیا۔ بیمار انڈسٹریل یونٹ کی بحالی کیلئے ملنے والی سبسڈی کا ستانوے فیصد بھی اومنی گروپ کو ہی دیا گیا۔

اومنی گروپ کی دو شوگر ملوں نے جعلی اینگرو فارم کے نام سے بیالیس اعشاریہ تین ملین اور ستائیس اعشاریہ چھ ملین روپے غبن کیے، جے آئی ٹی کے مطابق سبسڈی کے نام پر مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدے بھی کیے گئے۔ جےآئی ٹی نے ان تمام معاملات کا ذمہ دار مراد علی شاہ کو دیا ہے اور انہیں اس سلسلے میں چھبیس مارچ کو طلب کیا گیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں